اسلام آباد:
دوست ممالک کی کوششوں سے پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی میں واضح کمی آگئی اور کافی حد تک جنگ کا خطرہ ٹل گیا ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس کیلیے جہاں پاکستان کے دوستوں نے اہم کر دار ادا کیا وہیں پاکستانی قوم کے بے مثال اتحاد، جنگی اور سفارتی محاذ پر بھارت کوبھر پور جواب نے بھی اسے  پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔ ذرائع کے مطابق کشیدگی ختم کرانے میں سعودی عرب کا کردار نمایاں رہا۔ سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیرنے گزشتہ ہفتے پہلے  اسلام آباداور پھر نئی دہلی کا دورہ کیا۔ نئی دہلی میں انھوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور اپنی بھارتی ہم منصب سُشما سوراج سے ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب متحد ہ عرب امارات کے ساتھ مل کر پاکستان اور بھارت میں دیرپا امن کیلیے کوئی سمجھوتہ طے کرانے کی بھی کوششیں کررہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی وزیراعظم  نریندر مودی نے یہ  سب کچھ ووٹ کیلیے کیا تھا جو بیک فائر کر گیا۔

بھارتی جارحیت نے ایک طرف پاکستانی قوم کومتحد کردیا دوسری طرف پاکستان کی جوابی کارروائی اور سفارتی حکمت عملی نے بھارت کو پسپائی پرمجبور کردیا۔ مودی کے  اس اقدام نے پوری بھارتی قوم کو بھی  تقسیم کر دیا۔اب جنگ کا خطرہ کافی حد تک ٹل گیا ہے تاہم اگربھارت نے دوبارہ مہم جوئی کی  تو اس کا موثر جواب دیا جائے گا۔ بھارتی جارحیت کا معاملہ اقوام متحدہ سیمت پوری دنیا میں اٹھایا ہے۔ ذرائع کے مطابق  بھارت نے پلوامہ پر جو ڈوزیئر دیا ہے اس کا معائنہ کیا جا رہا ہے، ڈوزیئر کی حساسیت کے باعث تفصیلات نہیں بتا سکتے۔

 

دونوں ملکوں کے ڈی جی ملٹری آپریشنز رابطے میں ہیں اور طے پایا ہے کہ ڈی جی ملٹری آپریشنز ہر منگل کو ہاٹ لائن پر رابطہ کیا کریں گے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری پر مذاکرات کیلیے بڑا وفد اٹاری جائے گا۔ وفد میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ خارجہ، ایف آئی اے، وزارتِ قانون ،وزارتِ مذہبی امور اور این۔آئی ایچ کے افسران شامل ہوں گے۔  کرتارپور پراجیکٹ نومبر تک مکمل ہو جائے گا۔ ذرائع کے مطابق موسم کی خرابی کے باعث غیرملکی صحافیوں کو بالاکوٹ لے جانے میں دشواری ہے ، بھارتی نیوی کی جانب سے دراندازی کا معاملہ جلد اٹھایا جائے گا۔ سمجھوتہ ایکسپریس میں بڑا ظلم ہوا ، بھارت نے ملوث لوگوں کو چھوڑ دیا ہے۔بھارت نے ابھی کوئی پانی نہیں روکا ، پانی روکنا اتنا آسان کام نہیں ہے۔

دریں اثنا امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ایمبیسڈر جان بولٹن اور وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کے مابین بھی  پیر کے روزٹیلی فونک  رابطہ ہوا  جس میں وزیر خارجہ نے ہندوستان میں حالیہ انتخابات کے تناظر میں بھارت کی طرف سے جارحانہ عزائم کے ممکنہ خدشات سے آگاہ کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان پلوامہ واقعہ کے بعد خطے میں امن و امان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ترجمان دفتر خارجہ  کے مطابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے جان بولٹن کو بتایا کہ بھارت  کی طرف سے 26 فروری کو کی جانے والی  در اندازی  نہ صرف پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی  بلکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے  بھی منافی تھی۔