لاہور:
ہائیکورٹ آفس نے ماڈل ایان علی کی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمہ پاکستان میں موجود نہیں لہٰذا درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ آفس نے ماڈل ایان علی کی وارنٹ گرفتاری کے خلاف درخواست پر اعتراض لگاتے ہوئے کہا ہے کہ درخواستگزار ایان علی پاکستان میں موجود نہیں ہے لہٰذا ان کی  پاکستان میں غیرموجودگی میں درخواست کو سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبرکوبھی پڑھیں:  ایان علی نے وارنٹ گرفتاری کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا

 

گزشتہ روز ماڈل ایان علی نے وکیل آفتاب باجوہ ایڈووکیٹ کے توسط سے کسٹم عدالت سے اپنے وارنٹ گرفتاری واپس لیے جانے کی  درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کا سامنا کرنے کے لئے ٹرائل عدالت میں پیش ہونا چاہتی ہیں، اس کے لیے انہیں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے کسٹم عدالت میں ہیش ہونے کا موقع دیا جائے۔

درخواستگزار کا مزید کہنا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے، لہٰذا کسٹم عدالت کی جانب سے جاری وارنٹ گرفتاری واپس لئے جائیں۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی کسٹم عدالت نے کرنسی اسمگلنگ کیس میں مسلسل غیر حاضری پر ڈالر کوئن ایان علی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔

کرنسی اسمگلنگ کیس کیا ہے؟
14 مارچ 2015 کو بینظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے ایان علی کو اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ 5 لاکھ امریکی ڈالر سے زائد رقم غیر قانونی طریقے سے دبئی لے جارہی تھیں۔ بعد ازاں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کیا اور بیرون ملک جانے کی اجازت دی لیکن درجنوں مرتبہ طلبی کے باوجود وہ عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔