کراچی:
پولیس نے سرکاری گیسٹ ہاؤس قصر ناز کے عملے کو پانچ بچوں اور ان کی پھوپھی کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

کراچی میں ڈی آئی جی ساؤتھ شرجیل کھرل نے وفاقی گیسٹ ہاؤس قصرِ ناز میں پانچ بچوں اور ان کی پھوپھی کی ہلاکت کے معاملے پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ 21 اور 22 فروری کی درمیانی شب واقعہ پیش آیا، متاثرہ فیملی کوئٹہ اور خضدار سے ہوتی ہوئی قصر ناز پہنچی تھی، کھانا کھانے کے بعد سب لوگ سوگئے، رات 2 بجے والد کی آنکھ کھلی تو بچے الٹیاں کررہے تھے، والدہ بے ہوش تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پانچ بچوں اور پھوپھی کی ہلاکت میں قصر ناز کے 6 ملازمین گرفتار

 

ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ قصرِ ناز میں تلاشی کے دوران زہریلی ادویات کی خالی بوتلیں ملیں، کمرے سے ملنے والا پاؤڈر جامعہ کراچی میں واقع لیب بھیج دیا گیا، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زہریلے پاؤڈر ایلمونیم فاسفائڈ کا اثر پایا گیا، اتنا زہریلا اسپرے لائسنس یافتہ کمپنی کے ذریعے کروانا چاہیئے تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں کھانا کھانے سے 5 بچے جاں بحق

شرجیل کھرل نے بتایا کہ کمرے کے فرش پر پاؤڈر کافی مقدار میں تھا اور کھانے میں بھی مکس ہوا جو بچوں کی جان لے بیٹھا، یہ لاپروائی اور غفلت کا نتیجہ ہے، لاپرواہی میں قصرِ ناز کا عملہ ملوث ہے، ملزمان میں اسسٹنٹ کنٹرولر، اسسٹنٹ ایکزیکٹو انجینئر، ویٹر، ریسیپشنسٹ اور ٹھیکیدار شامل ہے، ندیم اختر، مہران علی، ناصر اعوان، سجاد حسین، پرویز بھٹی، ذاکرحسین، سکندرحیات، صنوبر، عبدالحمید کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایس ایس پی ساؤتھ انویسٹی گیشن طارق دھاریجو نے کہا کہ اسٹوڈنٹ بریانی اور نوبہار ریسٹورنٹ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، قصرِ ناز میں فیومیگیشن کرنے والے افراد تربیت یافتہ نہیں تھے، ایک ملازم کے رشتے دار کی کمپنی رجسٹرڈ تھی جس سے فیومیگیشن کرائی جاتی تھی، گرفتار افراد نے شواہد کو مٹانے کی کوشش کی، وہ لوگ بھی گرفتار ہیں جنہوں نے کمرہ دھویا اور شواہد مٹائے۔