دوحا:
امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ طالبان کے ساتھ  مذاکرات کا میراتھن راونڈ مکمل کر لیا ہے، جب کہ انسداد دہشتگردی اور غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق مسودے پر اتفاق بھی ہو گیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق قطرمیں امریکا اور افغان طالبان کے مابین جاری افغان امن مذاکرات کا پانچواں دورختم ہوگیا ہے، لیکن دونوں فریقین کا کسی حتمی نکتے پر اتفاق نہیں ہوسکا، تاہم طالبان اور امریکا نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

افغان مفاہمتی عمل کے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے سوشل میڈیا پر پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا میراتھن راونڈ مکمل کر لیا ہے، مذاکرات میں انسداد دہشت گردی،غیر ملکی افواج کے انخلاء، جنگ بندی اور انٹرا افغان ڈائیلاگ پر بات ہوئی، جب کہ انسداد دہشتگردی اور غیر ملکی افواج کے انخلا سے متعلق مسودے پر بھی اتفاق ہو گیا ہے۔

 

زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امن کی شرائط میں بہتری آئی ہے، دونوں اطراف کےلوگ جنگ ختم کرنے کےخواہشمند ہیں، تاہم امن کے لیے افغانوں میں مذاکرات، انسداد دہشت گردی کی یقین دہانی، افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا اور جامع جنگ بندی پرمعاہدہ درکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جنوری کے مذاکرات میں ان چار نکات کےاصولوں پربات کی تھی، اور اب تیار ہونے والے ڈرافٹ میں ان میں سے پہلے دو نکات پراتفاق ہوا ہے۔

دوسری جانب افغان میڈیا کے مطابق 16  روز کی ملاقاتوں میں کئی نکات پرمعاہدے کی دستاویزات انگریزی اورافغان زبان میں تیار کی گئی ہیں، معاہدے پرفریقین نے دستخط نہیں کیے۔ زلمےخلیل زاد امریکی صدرٹرمپ اور دیگرحکام سےملاقات کریں گے، اور رواں ہفتے ہی امریکی نمایندہ خصوصی کا امریکا واپس جانے کا امکان ہے۔