پرتھ:
مسلمانوں کے خلاف بیان دینے والے آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کو پریس کانفرنس کے دوران ایک نوجوان نے سر پر انڈا دے مارا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق آسٹریلوی سینیٹر فریزر اینیگ کے سر پر انڈا مارنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سینیٹر ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں مصروف تھے، اسی دوران سینیٹر کے عین پیچھے کھڑے ہونے والے 17 سالہ نوجوان نے میڈیا کی موجودگی میں انڈا سر پر دے مارا۔

جوابی ردعمل میں سینیٹر فریزر ایننگ نے نوجوان کو دو مکے رسید کیے جن میں سے ایک نوجوان کے سر پر لگا اور وہ گر گیا، اسی دوران سینیٹر کے اسٹاف کے اراکین نے نوجوان کو دبوچ لیا، بعد ازاں نوجوان کو پولیس نے حراست میں لے لیا تاہم معمولی پوچھ گچھ کے بعد نوجوان کو جانے کی اجازت دے گئی۔

 

مذکورہ سینیٹر نے گزشتہ روز نیوزی لینڈ میں  دہشت گرد حملے کے بعد بھی مسلمانوں کے خلاف بیان جاری کیا تھا، جس پرعالم اسلام  میں غم و غصہ دیکھنے میں آیا تھا اور عالمی سطح پر اس بیان کی مذمت بھی کی گئی تھی۔ نوجوان کی کارروائی بھی اسی بیان کا ردعمل محسوس ہوتی ہے، تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

دوسری جانب فیس بک پر نوجوان کے دوستوں نے ایک ’فنڈ ریزنگ پیج ‘ بھی بنا دیا جس کا مقصد نوجوان کی قانون امداد اور مزید انڈے خریدنے کے لیے رقم جمع کرنا بتایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق نوجوان ہمپٹن کا رہائشی ہے تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔