کرائسسٹ چرچ:
سیاہ لباس اور دوپٹہ میں ملبوس نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے مساجد پر دہشت گرد حملے میں بڑی تعداد میں مسلمانوں کی شہادتوں پر لواحقین سے ملاقات کرکے تعزیت کی اور افسوس کا اظہار کیا۔

نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر دہشت گرد حملے میں شہید افراد کے لواحقین اور زخمیوں سے ملاقات کی اور انہیں گلے لگاکر دلاسا دیا۔ جسینڈا آرڈرن نے سیاہ لباس اور دوپٹہ اوڑھا ہوا تھا۔ اس ملاقات میں مسلم برادری کی ارکان بڑی تعداد میں موجود تھے۔
جسینڈا آرڈرن نے متاثرین سے ان کے پیاروں کے بچھڑنے پر تعزیت کی اور ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پورا ملک دکھ کی اس گھڑی میں متحد ہے اور آپ کے ساتھ ہے، آپ لوگ ہم سے ہیں اور ہم آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں، لیکن جن لوگوں نے اس تشدد کا ارتکاب کیا وہ ہم میں سے نہیں۔

جسینڈا آرڈرن نے ملک میں اسلحہ کے قوانین میں ترمیم کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پہلے ہی نیم خودکار اسلحے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرچکی ہے، پیر کو کابینہ کا اجلاس ہوگا جس میں اسلحہ قوانین میں اصلاحات پر غور کیا جائے گا۔

ادھر مسلم برادری اپنے شہدا کی تجہیز و تکفین کی تیاریاں کر رہی ہے جبکہ حکام کے مطابق شہداء اور زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔

نیوزی لینڈ کے مشہور مقامات پر بڑی تعداد میں ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگ جمع ہوئے اور متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ وہاں ان کے لیے پھول رکھے گئے اور ایسے پوسٹر رکھے گئے جن میں تارکین وطن سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ حملے کے متاثرین کے لیے ایک آن لائن فنڈ بھی قائم کیا گیا ہے جس میں اتنی کثرت سے عطیات جمع ہوئے ہیں کہ اس کی ویب سائٹ میں کریش ہوگئی۔

دہشت گرد حملے میں ملوث آسٹریلوی دہشت گرد برینٹن ٹیرینٹ کو کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کو پہلی ایمرجنسی کال کے 36 منٹ بعد گرفتار کیا گیا اور اس کی گاڑی سے مزید 5 ہتھیار بھی برآمد ہوئے جبکہ اس کے پاس اسلحے کا لائسنس بھی تھا۔