کراچی:
سندھ ہائی کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کیس راولپنڈی منتقل کرنے کے خلاف اپیل پر ڈی جی نیب کو 26 مارچ کے لئے نوٹس جاری کردیئے جب کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کی فوری حکم امتناعی سے متعلق دائر درخواستیں مسترد کردیں۔

چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس عمر سیال پر مشتمل ڈویژنل بینچ کے روبرو میگا منی لانڈرنگ کیس راولپنڈی منتقل کرنے کیخلاف سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور کی اپیلوں کی سماعت کی۔

آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک ایڈوکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ بینکنگ کورٹ نے مروجہ قوانین کے برخلاف کیس منتقلی کی درخواست منظور کی۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کو راولپنڈی منتقل کرنے کا کہا ہی نہیں تھا۔ سپریم کورٹ نے صرف نیب کے 16 ریفرنسز اسلام آباد دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

 

چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ آپ کا کیس کیا ہے۔ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے۔ فاروق ایچ نائیک ایڈوکیٹ نے موقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ صرف نیب کے 16 ریفرنسز سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی درخواست دائر کی؟ سپریم کورٹ نے تو لکھ دیا کہ ہم کیس اسلام آباد منتقل کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اب کیا بچتا ہے۔ یہ بتائیں نیب کس قانون کے تحت ضمنی چالان پیش کر سکتا ہے۔

عدالت عالیہ نے ڈی جی نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 26 مارچ تک جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے انور مجید اور عبدالغنی کی اپیلوں پر بھی نوٹس جاری کردیے۔ عدالت نے آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے بینکنگ کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی فوری حکم امتناعی سے متعلق درخواستیں مسترد کردیں۔

سماعت کے بعد آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے غیر رسمی گفتگو میں کہا کہ عدالت نے نیب حکام کو نوٹس جاری کردیئے ہیں۔ میں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ تمام ریکارڈ منگوایا جائے لیکن عدالت نے میری استدعا مسترد کردی۔

عبوری ضمانت منظور

دوسری جانب  سندھ ہائی کورٹ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی، اس موقع پر سابق صدر بھی سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔ آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ ان کے موکلین  کو نیب کی طرف سے کال اپ نوٹس جاری کیا گیا ہے، ان کی گرفتاری کا خدشہ ہے لہٰذا حفاظتی ضمانت منظور کی جائے۔ عدالت نے نیب انکوائری میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی 10، 10 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض 10 روز کی عبوری ضمانت منظور کرلی۔