اسلام آباد:
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ چیف جسٹس پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ ایک خط کی بنیاد پر ضمانت کا کیس بنایا جارہا ہے۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواستِ ضمانت کی سماعت کی۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ 5 میڈیکل بورڈز نے نواز شریف کی طبیعت کا جائزہ لیا اور ہر میڈیکل بورڈ نے نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی، نواز شریف کو ہائپر ٹینشن، دل، گردے اور شوگر کے امراض ہیں جن میں سے گردوں کا مرض انجیو گرافی میں پیچیدگیوں کا باعث ہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا کہ جس بنیاد پر کیس بنا رہے ہیں وہ ایک خط ہے، آپ کا کیس ہی یہی ہے صحت دن بدن گر رہی ہے، صحت اور مرض بگڑنے کے شواہد پر ہی سزا معطلی کا کیس بنتا ہے، آپ کا سارا انحصار صرف ڈاکٹر لارنس کے خط پر ہے، ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ڈاکٹر لارنس زندہ بھی ہے یا نہیں، فوجداری کیس میں خط پر انحصار نہیں کیا جاتا۔

یہ بھی پڑھیں: العزیزیہ ریفرنس؛ نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد

سپریم کورٹ سابق وزیراعظم کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کا فیصلہ آج سنائے گی۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے سزا معطلی کیس میں مزید دستاویزات جمع کرا دی ہیں جن میں ایک خط بھی شامل ہے جو ڈاکٹر لارنس کی جانب سے نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے نام لکھا گیا ہے۔ خط میں نوازشریف کی 2003 سے 2019 تک کی میڈیکل رپورٹس شامل ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے،  نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 برس کی سزا سنائی گئی اور وہ اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں، اس کے علاوہ انہیں ایون فیلڈ ریفرنس میں بھی سزا ہوئی ہے جو کہ عدالت نے معطل کررکھی ہے۔