کراچی:
سندھ ہائی کورٹ نے کینسر کے مریض نسیم حیدر کی گٹکا، ماوا،مین پوری، سٹی، ون ٹو ون اور جے ایم پر پابندی کے لیے دائر درخواست پر سندھ حکومت، آئی جی سندھ، سیکریٹری قانون اور دیگر اداروں کو نوٹس جاری کردیے۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس آغا فیصل کے روبرو کینسر کے مریض نسیم حیدر کی گٹکا اور ماوا پر پابندی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے استفسار کیا کہ آپ اپنا علاج کرانا چاہتے ہیں یا معاوضہ چاہتے ہیں؟ وکیل مزمل ممتاز میو نے جواب دیا کہ درخواست گزار کو حکومت سے معاوضہ دلایا جائے ،گٹکا اس وقت بھی پورے شہر میں کھلے عام فروخت ہورہا ہے عدالت نے ریمارکس دیے آئی جی سندھ کیا کررہے ہیں؟ دیکھیں درخواست کینسر کے مریض نے دائر کردی۔

وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نسیم حیدر کو گٹکا کھانے سے منہ کا کینسر ہوگیا علاج کرانے کے لیے پیسے نہیں ہیں، پولیس ملزمان کو نہیں پکڑتی اور اگر پکڑلیتی ہے تو عدالت ان کو ضمانت پر چھوڑدیتی ہے، شہری گٹکا کھاکر مررہے ہیں اور کسی کو کوئی احساس نہیں ہے۔

 

آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی جائے کراچی کے تھانوں میں کتنی گٹکا مشینیں اور گٹکا  کیس پراپرٹی میں رکھی  ہوئی ہیں، کراچی میں گٹکے کے کارخانے پولیس کی سرپرستی میں چلتے ہیں، آئی جی سندھ،  ڈی آئی جی، ایس ایس پی کو حکم دیا جائے گٹکے کی ایف آئی آر دفعہ بی۔ 336 تعزیرات پاکستان کے تحت درج کی جائے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ بی۔336 ناقابل ضمانت ہے، یہ سیکشن لگانے سے گٹکا  مافیا کا خاتمہ ہوسکتا ہے تمام جوڈیشل مجسٹریٹس کو حکم دیا جائے چھوڑی ہوئی گٹکا بنانے والی مشینیں واپس طلب کی جائیں عدالت نے سندھ حکومت، آئی جی سندھ سیکریٹری قانون اور دیگر کو 26 اپریل کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا، عدالت نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی، ایس ایس پی انوسٹی گیشن کورنگی اور تفتیشی افسر زمان ٹاؤن سے بھی جواب طلب کیا ہے۔