کراچی/لاہور:
ورلڈکپ کے دوران اضافی کمک پاکستانی دستے کو استحکام بخشے گی جب کہ سلیکٹرز نے15رکنی ٹیم کے ساتھ دورئہ انگلینڈ میں مزید2 کرکٹرزکو بھی بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ورلڈکپ کیلیے پاکستانی ٹیم کا اعلان آئندہ ہفتے ہو گا،اس سے قبل کھلاڑیوں کی فٹنس جانچی جا رہی ہے، اس کیلیے 23 پلیئرز کا اعلان کیا گیا تھا، نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں ٹریننگ کرنے والے کئی کھلاڑی ازخود فٹنس ٹیسٹ دے رہے ہیں، پی سی بی 15اپریل کوحتمی جانچ کرے گا،اس کے بعد 2روزہ ٹریننگ کیمپ قذافی اسٹیڈیم لاہور میں رکھا گیا ہے، چیف سلیکٹر انضمام الحق18تاریخ کی شام ساڑھے 5 بجے اسکواڈکا اعلان کریں گے۔

پی سی بی ترجمان کے مطابق 23اپریل کو قومی ٹیم انگلینڈ روانہ ہوگی، محمد نواز کو ان کے ادارے اسٹیٹ بینک کی درخواست پر ہفتے کو فٹنس ٹیسٹ کیلیے بلایا گیا ہے، وہ گریڈ ٹو ٹورنامنٹ میں آرمی کیخلاف راولپنڈی میں شیڈول میچ میں شرکت کریں گے، دیگر تمام کے ٹیسٹ15تاریخ کو ہی ہوں گے۔

 

ذرائع کے مطابق سلیکشن کمیٹی پہلے سے اعلان شدہ23کھلاڑیوں میں سے قومی ٹیم منتخب کرے گی،مزید کسی پلیئرکو نہیں بلایا جا رہا۔ کئی کھلاڑی ان دنوں نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں ٹریننگ کر رہے ہیں، انھوں نے ازخود فٹنس کی جانچ کرائی ہے، فاسٹ بولر محمد عامر، عماد وسیم،امام الحق، محمد حسنین اور عابد علی ہفتے کو آزمائش سے گذریں گے،کپتان سرفراز احمد بھی این سی اے میں رپورٹ کر چکے ہیں۔

پی سی بی نے فٹنس ٹیسٹ کے لیے 15اپریل کا باقاعدہ اعلان کررکھا ہے۔ البتہ اب تک بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، حارث سہیل، فہیم اشرف، محمد عباس، شاداب خان ، محمد حسنین اور عابد علی ازخود فٹنس کی جانچ کرا چکے ہیں،چیف کوچ مکی آرتھر، بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور،فیلڈنگ کوچ گرانٹ بریڈ برن،فزیو کلف ڈکن اور ٹرینر گرانٹ لیوڈن پر مشمل ٹیم فٹنس ٹیسٹ لے رہی ہے، اس دوران جو کرکٹرز17.4 کے بنچ مارک تک نہ پہنچ پائے، ان کے پاس15اپریل کوحتمی ٹیسٹ دینے کا موقع ہوگا۔

اس دوران کھلاڑیوں کو یویو ٹیسٹ کے ساتھ کم وقت میں گراؤنڈ کے کئی راؤنڈز بھی لگانے ہوں گے،اب تک صرف 2کرکٹرز عابد علی اور محمد حسنین ہی مطلوبہ ہدف سے معمولی سے پیچھے رہے ہیں، وہ ایک بارپھر ہفتے کو ٹیسٹ دیں گے۔ فاسٹ بولر محمد عامر کیلیے یہ فٹنس ٹیسٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

ذرائع کے مطابق پیسر ان دنوں بھرپور ٹریننگ کرنے میں مصروف ہیں تاکہ میگاایونٹ سے پہلے فٹنس اور ردھم حاصل کرسکیں، انھیں یقین ہے کہ وہ ایک بارپھر سلیکٹرز اور ٹیم انتظامیہ کا دل جیتنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایک طرف سلیکشن کمیٹی عامرکی کارکردگی سے پریشان ہے تو دوسری طرف ٹیم انتظامیہ خاص طورپر چیف کوچ مکی آرتھر اور بولنگ کوچ اظہر محمود بھی محمد عامر کی حالیہ پرفارمنس سے خوش نہیں ہیں۔

سلیکشن کمیٹی اور ٹیم انتظامیہ کے ممکنہ پلان کے مطابق 15رکنی اسکواڈ میں 5فاسٹ بولرز شامل ہوں گے، شاہین شاہ آفریدی، حسن علی، فہیم اشرف اور عثمان شنواری کی جگہ تو پکی دکھائی دیتی ہے تاہم محمد عامر ،محمد حسنین، جنید خان اور محمد عباس میں سے ایک انگلینڈ کا ٹکٹ پائے گا۔

محمد عامر کو فٹنس میں بہتری لانے کے ساتھ حریف بیٹسمینوں کی وکٹیں حاصل کرنے کا چیلنج بھی درپیش ہے، اس مشکل ٹاسک کے ساتھ سب سے اہم ٹیم انتظامیہ کا کھویا ہوا اعتماد بھی انھیں حاصل کرنا ہوگا۔

ڈراپ کیے جانے کے بعد دورئہ جنوبی افریقہ میں عامر کا کم بیک ہوا، 3ٹیسٹ میچز میں 283رنز دے کر انھوں نے 12 وکٹیں لیں، ون ڈے سیریز کے تین میچز میں صرف 2 ہی کھلاڑیوں کو آؤٹ کر سکے، اس دوران 102 رنز کی پٹائی برداشت کرنا پڑی،عامر نے واحد ٹی ٹوئنٹی میچ میں3وکٹیں اپنے نام کی تھیں، پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی نمائندگی کرنے والے پیسر نے 9میچز میں 13شکارکیے۔

تجربہ کار بولر کو آسٹریلیا کے خلاف شارجہ میں پہلے میچ میں کھلایاگیا تاہم وہ 9اوورز میں 59رنز دے کر کوئی وکٹ نہیں لے سکے، پھر انھیں باقی میچز سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔

اس کارکردگی کے بعد ایک طرف عامر پر تنقید کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف وہ سخت ٹریننگ سے خود کو انگلینڈسے سیریز اور ورلڈکپ اسکواڈ میں شمولیت کا اہل ثابت کرنا چاہتے ہیں، محمد عامر 36ٹیسٹ ، 42ٹی ٹوئنٹی اور 50ون ڈے میچز میں پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں۔