کراچی:
سندھ اسمبلی نے اپوزیشن کے شورشرابے کے دوران سندھ کی تقسیم کے بیان پرایم کیوایم کے رہنما اور وفاقی وزیر ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کے خلاف صوبائی وزیر شہلا رضا کی جانب سے پیش کردہ قرارداد مذمت منظور کرلی جبکہ ایسی ہی ایک دوسری قرارداد وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی منظور کی گئی جو بھارتی الیکشن میں ان کی جانب سے بھارتی وزیراعظم مودی کی مبینہ حمایت کے بیان پر پیپلز پارٹی کی خاتون رکن ندا کھوڑو نے پیش کی تھی۔

پیر کے روز شہلا رضا نے اپنی قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ سندھ نے کبھی غیرجمہوری اقدار کو پروان نہیں چڑھایا، فاطمہ جناح پر حملہ ہوا تو کراچی کے لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا، پھر کراچی کو نظر لگ گئی اور خون کی ہولی کھیلی گئی،کچھ دن پہلے کی پریس کانفرنس کوئی نئی بات نہیں ماضی میں بھی اس قسم کے کام ہوتے رہے ہیں۔

شہلا رضا نے کہا کہ یہ وہ صوبہ ہے جہاں لٹے پٹے ہمارے آباؤاجداد آئے تو میرے نانا کو قانون ساز ادارے کا رکن بنایا گیا، کسی کے اشارے سے صوبے میں بدامنی ہوگی تو تفریق ختم نہیں ہوگی۔

 

اسپیکر نے نے قرارداد منظوری کے لیے پیش کی تو اپوزیشن کی جانب سے نو کی کوئی آواز نہیں آئی جس پر سندھ اسمبلی نے قرارداد اتفاق رائے سے پاس کرلی تاہم اس دوران اپوزیشن کے ارکان کی جانب سے زبردست شور شرابہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کے خلاف قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے نداکھوڑو نے کہاکہ عمران خان بھول گئے ہیں کہ یہ وہی مودی ہے جس نے کشمیر میں بربریت کی انتہا کردی ہے۔قرارداد کی منظور ی کے بعدسندھ اسمبلی کا اجلاس منگل 16 اپریل کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ہے کہ ہمارا لیڈر ایک تھا ایک ہے اور ایک ہی رہے گا،ہم وہ نہیں جو اپنے لیڈر بدلتے رہیں، تھرکول کے منصوبے کی تکمیل سے شہید بی بی کا خواب پورا ہوگیا، وفاقی حکومت کی رکاوٹوں کے باوجودیہ عظیم منصوبہ سابق صدر زرداری اور بلاول بھٹو کی کوششوں سے مکمل ہوا ہے کوئی اور ہوتا تو اس منصوبے پر بھی یوٹرن لے لیتا لیکن ہم نے ایک بے مثال منصوبہ مکمل کرکے دکھایا۔

سندھ اسمبلی میں تھر کول منصوبے کے حوالے سے ایک پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ تھرکول پروجیکٹ کیلیے قائم علی شاہ نے بہت مدد کی،یہ پاکستان کا بہت اہم منصوبہ ہے۔ منصوبے کی راہ میںوفاقی حکومت نے بہت سی مشکلات پیدا کیں لیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری۔ ہم سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف کے شکر گزار ہیں جنھوںنے ساورن گارنٹی میں مدد کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں کنسٹرکشن شروع ہوچکی ہے،یہ کام ملک کو ایٹمی قوت بنانے سے کم نہیں۔ وزیراعلیٰ نے تھر کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ ہم ان کے مشکور ہیں جن کی قربانیوں کی بدولت اس منصوبے کو عملی شکل دینا ممکن ہوا۔

وزیراعلیٰ کے پالیسی بیان کے دوران اپوزیشن کی بینچوں سے مداخلت کی کوشش کی گئی تو اسپیکر آغا سراج درانی نے کہاکہ وزیراعلیٰ پالیسی بیان دے رہے ہیں انھیں بولنے دیا جائے۔ وزیراعلیٰ کے ریمارکس پر ایم کیوایم کے ارکان کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا تو اسپیکر نے کہاکہ یہ بولتے رہیںگے ان کی عادت ہے۔

علاوہ ازیں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والوں کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اجلاس میں کراچی کے دارالصحت اسپتال میں معصوم بچی نشوہ جس کی جان غلط انجکشن لگنے سے خطرے میں ہے کی صحت یابی کے لیے دعا کی گئی جبکہ اپوزیشن رکن اسمبلی رمضان گھانچی کی صحت یابی اور پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی قاسم سومروکی والدہ کے انتقال پر ایصال ثواب کے لیے دعا کی گئی۔