عید کی تعطیلات سے معیشت کو35 ارب کا جھٹکا،ملک بھر میں کاروباری و تجارتی سرگرمیاں آج سے دوبارہ شروعکراچی: رواں مالی سال ٹیکس وصولیوں کے لیے 2.81ٹریلین روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس لحاظ سے 365روز میں تقریباً 8ارب روپے کا ٹیکس یومیہ وصول کرنا ہوگا۔
عید کی تعطیلات کے بعد ملک بھر میں کاروباری و تجارتی سرگرمیاں آج سے دوبارہ شروع ہوں گی۔ عید کے موقع پر پانچ روز کی تعطیلات کے دوران پیداواری سرگرمیاں اور بیرونی تجارت معطل رہنے سے پانچ روز کے دوران 40ارب روپے کی ٹیکس وصولیاں بھی متاثر رہیں۔ پاکستان کی جی ڈی پی میں صنعتی شعبے کا حصہ 20فیصد سے زائد ہے۔ عید کی تعطیلات سمیت صنعتوں میں پیداواری سرگرمیاں ایک ہفتے تک معطل رہنے سے پاکستان کی جی ڈی پی کی افزائش پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
عید الفطر کے موقع پر حکومت کی جانب سے اعلان کردہ طویل تعطیلات کے باعث ملکی معیشت کو محض برآمدات کی مد میں35ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت نے عیدالفطر کے موقع پر منگل تا جمعرات چار روزہ تعطیلات کا اعلان کیا تھا جبکہ ہفتے اور اتوار کو ہفتہ وار تعطیل تھی جس کے باعث منگل تا ہفتہ ملک بھر میں پانچ روز اقتصاری و تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ رہیں۔
ہفتے کے روز بینکوں کی معمول کی تعطیل کے باعث تجارتی و معاشی سرگرمیاں ویسے ہی تعطل کا شکار رہتی ہیں جبکہ اس بار ایک ساتھ پانچ تعطیلات کے باعث ملک کومحض برآمدات کی مد میں ہی 35ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ملک کی سالانہ برآمدات کا حجم 26ارب ڈالر بنتا ہے جبکہ ایک روز کا برآمدی حجم 7کروڑ ڈالر سے زائد بنتا ہے۔ یوں اس بار عیدالفطر کی پانچ روزہ تعطیلات کے باعث ملک کو برآمدات کی مد میں35کروڑ ڈالر یا35ارب پاکستانی روپے سے زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔
تجارتی حلقوں کے مطابق ملک کی معیشت کو مجموعی طور پر پہنچنے والے مالی نقصان کا تخمینہ اس سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس دوران برآمدا ت و درآمدات معطل رہنے سے حکومت کو ملنے والے ٹیکس جبکہ دیگر کاروباری سرگرمیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ٹیکس سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ہیں جس کا حجم بھی اربوں روپے میں جا پہنچتا ہے۔ تجارتی حلقوں نے حکام اور پالیسی سازاداروں پر زور دیا ہے کہ تہواروں کو جوش وخروش سے منانے کی روایت کے ساتھ ملکی مفاد بالخصوص تعطیلات کے معیشت پر پڑنے والے اثرات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ ملک کو حقیقی معنوں میں معاشی استحکام کی جانب گامزن کیا جاسکے۔