سام پناہ دینے کی رسم، سندھ کی ایک خوب صورت روایتسندھ میں ’’سام‘‘ کی رسم صدیوں سے رائج ہے۔ اس رسم کے تحت کسی شخص (چاہے وہ مخالف ہی کیوں نہ ہو) کی گزارش پر اس کے خاندان کو پناہ دی جاتی ہے اور مرتے دم تک اس فرد یا خاندان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ رسم خصوصاً قبائلی اور جاگیردارانہ معاشروں کی پیداوار ہے، سام یعنی پناہ دینا وسیع القلبی اور جرأت مندی کا کام ہوتا ہے۔ اس میں بہت سارے خطرات مول لینے پڑتے ہیں۔
پناہ دو طرح سے دی جاتی ہے، ایک یہ کہ کسی لٹے پٹے فرد، خاندان یا کسی دوسری جگہ سے نقل مکانی کرکے آنے والے کو پناہ دی جائے۔ دوسری یہ کہ کسی کشت و خون اور لڑائی جھگڑے کے دوران کسی خاندان کو پناہ دی جائے۔ سندھ میں اس دوسری طرز کی پناہ کو ’’سام‘‘ دینا کہتے ہیں۔ سندھ میں یہ تصور غالب ہے کہ سام ہمیشہ بہادر آدمی ہی دے سکتا ہے۔ اگر کوئی مرد یا عورت جاکر کسی شخص سے یہ کہے کہ مجھے سام دے دیں اور وہ بہادر اور غیرت مند شخص ہے، تو وہ ان کو سام دے گا۔ پھر مخالف لوگ جب اس سے اپنا مرد یا عورت لینے آتے ہیں تو وہ انھیں یہی کہتا ہے کہ ’’انھوں نے میرے گھر میں سام لی ہے، اس لیے میں ان کو آپ کے حوالے نہیں کرسکتا۔‘‘
سام ہمیشہ کسی برادری کا بڑا آدمی، وڈیرا، جاگیردار یا کسی قبیلے کا سردار دیتا ہے۔ سام اس صورت میں دی جاتی ہے جب کوئی ایسا فرد جو کسی شخص کے ظلم و ستم کا شکار ہونے کے بعد علاقے کے سردار کے پاس جائے اور اس سے تحفظ مانگے کہ اسے فلاں شخص کے ظلم و ستم کا شکار ہونے سے نجات دلائی جائے۔ علاقے کا سردار ظلم و ستم کا شکار ہونے والے مرد یا عورت کی فریاد سننے کے بعد اسے اس وقت تک اپنی حویلی یا اوطاق میں رکھتا ہے جب تک کہ کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ کسی شخص کو سام رکھنے کے بعد سردار یا وڈیرا کوشش کرتا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ جلد ہوجائے، تاکہ اس کی حویلی میں سام کے لیے آنے والے کو بلا تاخیر انصاف فراہم کیا جائے۔
اس مرد یا عورت کو اس کے عزیزوں کے حوالے نہ کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہوتا لیکن قبائلی یا جاگیردارانہ معاشروں کے اپنے بنائے گئے قوانین کے تحت وہ ایسا کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس کے بعد اس مسئلے کو دو طریقوں سے حل کیا جاسکتا ہے۔ ایک یہ کہ اس کا فیصلہ ہونے کے بعد وہ مرد یا عورت کو اس کے رشتے داروں کے حوالے کردے یا پھر اس مرد یا عورت کے رشتے دار سام دینے والے سے لڑائی کے ذریعے معاملہ طے کریں۔
یوں قبائلی دور میں سام دینے پر متحارب قبائل میں خونریز لڑائیاں ہوتی تھیں۔ سام دینے والا شخص سام دینے کے بعد اس مرد یا عورت یا خاندان کو اپنی عزت اور غیرت سے مشروط کرلیتا تھا اس لیے وہ اپنے ناموس کی خاطر لڑتے لڑتے مرجاتا تھا لیکن سام میں لیے گئے لوگوں کو ان کی رضامندی کے بغیر واپس نہیں کرتا تھا۔
سندھ کی تاریخ میں سام کی رسم قدیم زمانے سے ملتی ہے۔ صدیوں قبل اس رسم کی بنا پر کئی جنگیں بھی ہوئی ہیں۔ بلوبڈانی اور جنگو کی مشہور لڑائی اس سلسلے کی کڑی ہے۔ کہا جاتاہے کہ شاہانی قبیلے کی چند خواتین بلو بڈانی کے مظالم کا شکار ہونے کے بعد جنگو کے پاس گئیں اور اپنے دوپٹے اس کے پیروں پر ڈال کر کہا،’’جنگو خان ہم تیری سام ہیں۔ ہمیں تحفظ دے اور ہمیں بلو بڈانی کے ظلم سے نجات دلا۔‘‘ کہا جاتا ہے کہ جنگو خان نے ان عورتوں کی خاطر بلو بڈانی سے لڑائی کی جس میں بہت سے افراد مارے گئے۔ یہ لڑائی دادو ضلع کے پہاڑوں پر لڑی گئی تھی۔ گوٹھ مراد جمالی میں جنگو خان کا مقبرہ آج بھی موجود ہے۔
یوں بھی ہوتا ہے کہ سام کی رسم بے بس عورتوں کو غلام بنادیتی ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ سام کی رسم کے تحت کاروکاری کا شکار ہونے والی عورتوں کو وڈیرے یا سردار کی حویلی میں پناہ ملتی ہے۔ زندگی کی بھیک ملنے کے بعد کاری قرار پانے والی عورت کو اپنی ساری زندگی اپنی پناہ گاہ بننے والی حویلی میں گزارنی پڑتی ہے۔ سام عورت جس دن حویلی سے باہر قدم نکالتی ہے وہ دن اس کی زندگی کا آخری دن ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ جس عورت کو ’’کاری‘‘ کہا جاتا ہے وہ اپنے والدین کے لیے پہلے ہی مرچکی ہوتی ہے، کیوں کہ زیادہ تر مقدموں میں کاری عورت کو قتل کردیا جاتا ہے، بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ شک کی بنیاد پر کسی قبیلے نے کاروکاری کے الزام میں مرد کو تو قتل کردیا، مگر عورت کسی طرح بھاگ کر وڈیرے کی حویلی پہنچ گئی اور قتل ہونے سے بچ تو گئی مگر اس مقدمے کا فیصلہ پھر وڈیرہ کرتا ہے۔
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ عورت قتل ہوجاتی ہے اور مرد بچ کر کسی بااثر قبیلے کے پاس ’’سام‘‘ بن جاتا ہے۔ اس طرح قبائلی روایات کے مطابق کاروکاری کے الزام میں ملوث مرد اور عورت وڈیرے کے پاس غلام اور کنیز کے طور پر زندگی گزارتے ہیں۔ ایسی عورت جس کو سام بناکر حویلی میں رکھا جاتا ہے، ہمیشہ غیرشادی شدہ رہتی ہے، اگر وہ پہلے سے شادی شدہ ہے تو اس کا شوہر اس سے لا تعلق رہتا ہے۔ بعض ’’سام‘‘ عورتیں مظالم سے تنگ آکر حویلی سے بھاگ نکلتی ہیں، بصورت دیگر وہ حویلی کے اندر زندگی بھر رئیسوں، سرداروں اور وڈیروں کے مظالم کا شکار رہتی ہیں۔
بعض قبائل میں سام کے تحت ایسی عورتوں کو بھی وڈیرے یا سردار کی حویلی میں بھیجا جاتا ہے جن کو حق بخشا یا جاتاہے یعنی قرآن سے ان کی شادی کی جاتی ہے۔ کچھ قبائل میں یہ رسم بھی ہے کہ وہ عورت جس کا شوہر انتقال کر گیا ہو سام بنالی جائے۔ قبیلے کی روایات کے مطابق ایسی عورت کو دوسری شادی کرنے کی اجازت نہیں ہوتی وہ حویلی میں کنیز بن کر رہتی ہیں۔

سام کے حوالے سے سندھ میں ایک واقعے نے بہت شہرت پائی اور اسی واقعے کے باعث یہ رسم ایک شان دار رسم کی حیثیت اختیار کر گئی۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ تقریباً سات صدی قبل سندھ پر سومرا خاندان کے بھونگر نامی شخص کی حکم رانی تھی۔ اس کی وفات کے بعد اس کے دو بیٹوں چنیسر اور دودو سومرو کے درمیان اقتدار کی جنگ چھڑ گئی۔ چنیسر بڑا بیٹا تھا۔ اس لیے تخت پر اس کا حق بنتا تھا ۔ وزرا اور امرا نے چنیسر کی تخت نشینی پر اس بنا پر اعتراض کیا کہ چنیسر بھونگر کی غیر سومرا بیوی سے ہے، جب کہ دو دو سومرو کی ماں سومرا خاندان کی ہے۔ اس لیے اس کو حکم راں بننا چاہیے۔
بالآخر فیصلہ بھونگر کی بڑی بیٹی باگھل بائی کے پاس گیا، جس نے چنیسر کے حق میں فیصلہ دیا، مگر جب یہ فیصلہ چنیسر کو سنایا گیا تو اس نے کہا،’’میں اپنی ماں سے پوچھ کر آتا ہوں۔‘‘ بس یہ بات وزرا اور امرا کے لیے بہانہ بن گئی کہ چنیسر میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے انھوں نے دو دو سومرو کو بھونگر کا جانشین مقرر کردیا۔ چنیسر کو جب اس صورت حال کا پتہ چلا تو اس نے اپنی حکم رانی کے حق اور انتقام لینے کی خاطر دہلی کے حکمراں علائو الدین خلجی سے مدد طلب کی۔ علائو الدین خلجی نے اپنے سالاروں کو حکم دیا کہ وہ سندھ پر حملہ کرکے چنیسر کو اقتدار دلادیں۔ علائو الدین کی افواج دو دو سومرو کی تخت گاہ ’’روپا‘‘ پہنچی۔
علائو الدین نے اپنے ایلچی سالار خان کے ذریعے دو دو سومرو کو پیغام بھجوایا کہ وہ چنیسر کے حق میں دست بردار ہوجائے یا جنگ کے لیے تیار ہوجائے۔ دو دو سومرو اپنی سندھی قوم کی تاریخی امن پسندی کے تحت تخت اپنے بھائی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوگیا۔ رضامندی کا پیغام چنیسر کے بیٹے نگر کے ذریعے بھجوایا گیا، لیکن چنیسر انتقام لینا چاہتا تھا۔ اس نے علائو الدین کو اپنی بہن کا رشتہ دینے کا لالچ دیا تاکہ دونوں کے درمیان دوستی کا رشتہ مضبوط ہو۔ علائو الدین نے رشتہ منظور کرلیا۔ نگر اپنے باپ چنیسر کی طرح نہیں تھا اس لیے وہ اس بے عزتی کو نظر انداز نہیں کرسکتا تھا۔ نگر نے علائو الدین کو جواب دیا۔ ’’سومرے موت کے درد کے دوران بھی اپنی خواتین کا سودا نہیں کرتے۔‘‘ یہ سن کر علائو الدین جلال میں آگیا اور اپنے گماشتوں کو اس نوجوان شہزادے کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔
نگر نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن کب تک، علائو الدین نے نگر کی لاش روپا بھجوادی۔ نگر شہزادے کی موت کی خبر سن کر دو دو سومرو کی بیٹی اور نگر کی منگیتر کو مل نے اپنے آپ کو جلادیا۔ اس واقعے کے بعد باگھل بائی نے اپنے بھائی دو دو سومرو سے کہا، ’’اگر تم علائو الدین کو میرا رشتہ دے دو تو یہ قتل کا سلسلہ بند ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ اتنی بڑی قربانی نہیں ہے مگر اس سے ہمارے وطن کے لوگوں کی جانیں بچ جائیں گی۔‘‘
دو دو سومرو کا جواب تھا، ’’سومرا خاندان کی تاریخ میں یہ کبھی بھی نہیں ہوا ہے کہ اپنی لڑکی کسی غیر کو شادی کے بندھن میں دی جائے اور جو میرے آباؤ اجداد نے کبھی نہیں کیا میں وہ نہیں کروں گا۔‘‘ باگھل بائی نے یہ جواب سن کر اپنا سر اپ نے بہادر بھائی کے قدموں میں رکھ دیا۔ اس صورت حال کے پیش نظر دو دو سومرو نے اپنی بیوی بچوں کو اپنے بہادر ترین امراء میں سے کو پیغام بھجوایا اور اپنی ساری عورتوں اور بچوں کو ان کے ساتھ اپنے گوٹھ لے جانے کی درخواست کی کہ وہ انھیں اپنی حفاظت میں رکھے۔ یوں اس امیر نے عورتوں اور بچوں کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔
اس واقعے سمیت سام کے حوالے سے تاریخ میں موجود دیگر واقعات بتاتے ہیں کہ سندھ کا یہ رواج ایک خوب صورت روایت ہے، جو آج بھی جاری ہے، تاہم اسے ذریعہ بناکر عورتوں کا استحصال ایک مکروہ فعل ہے۔