سابق ملازمہ نے سعودی شاہی خاندان کی باتوں سے پردہ اٹھادیاریاض: مغربی میڈیا سعودی شاہی خاندان کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر مبنی رپورٹس جا بجا تیار کرتا رہتا ہے اور اسی نوعیت کی ایک تازہ کتاب میں الزام لگایا گیا ہے کہ شاہی خاندان کے افراد اپنے غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ساتھ نتہائی براسلوک کرتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو مذہبی پولیس کے حوالے کردیتے ہیں۔
یہ کتاب “Behind Palace Walls” 51 سالہ خاتون کے گارشیا نے لکھی ہے۔ گارشیا کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے چار ماہ کے لیے ایک سعودی شہزادی کے ہاں ملازمت کے دوران غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ساتھ بدترین سلوک دیکھا اور جب اس کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے فوراً جہاز میں بٹھا کر ملک سے نکال دیا گیا۔
گارشیا کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان سعودی شہزادی کے محل میں دو فلپائنی اور دو ملاوی کی خواتین ملازماؤں کی سربراہ تھی۔ اس نے بتایا کہ شہزادی بات بات پر بگڑ جاتی تھی اور اکثر ملازم خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتی، ان کے کمروں میں اودھم مچا کر توڑ پھوڑ کرتی اور خطرناک دھمکیاں بھی دیتی۔ گارشیا نے ریاض کو مشرق وسطیٰ کا سب سے زیادہ قدامت پسند شہر قرار دیا ہے دوبارہ کبھی وہاں نہ جانے کا عزم ظاہر کیا۔