عرب حکمران غزہ میں بے گناہوں کے قتل عام سے بے پرواہفلسطینیوں کی آزاد ی ، بنیادی حقوق اور اسرائیلی جنگی جرائم کا مقدمہ عالمی برادری میں اٹھائے جانے سے پہلے اسے عرب ممالک اور مسلم دنیا میں اٹھایا جانا چاہیے۔

فلسطین سرزمین عرب کا جغرافیائی،تاریخی اور تہذیبی وثقافتی مرکز رہا ہے۔ آ ج بھی اس مقام کی تاریخی اہمیت مسلمہ ہے۔ لیکن پچھلے 66 برسوں سے فلسطینیوں کا مقدمہ خود فلسطینی عوام ہی لڑ رہے ہیں۔ عرب ملکوں نے اگر اسرائیلی جارحیت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا ہے تو وہ مظلوم فلسطینیوں کے دفاع میں نہیں بلکہ اپنے ریاستی مفادات کی خاطراٹھایا۔ سنہ 1967ء کی چھ روزہ عرب، اسرائیل جنگ میں گوکہ مصر، شام، اردن اور فلسطین نے مشترکہ طورپر اسرائیل کے خلاف جنگ شروع کی، لیکن ہرملک کے اپنے مفادات تھے۔ وہ کسی نظریے اور آدرش کے تحت نہیں بلکہ ذاتی مفادات کی خاطر اسرائیل کے خلاف میدان میں کودے، سو نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ اسرائیل نے نہ صرف پڑوسی عرب ملکوں کے حملے کو ناکام بنا دیا بلکہ آگے بڑھ کرمصر کے جزیرہ نما سینا، فلسطین کے مغربی کنارے، بیت المقدس اور شام کی وادی گولان کے ایک بڑے حصے پربھی قبضہ کرلیا۔ عرب ممالک نے اس جنگ میں ایسا زخم کھایا جوآج تک بھرنہیں پایا ہے۔

زخم خوردہ عرب ملکوں نے اپنے کھوئے علاقے واپس لینے کے بجائے اسرائیل سے دوستانہ تعلقات میں عافیت سمجھی۔ ان ملکوں کے اسرائیل سے سفارتی، اقتصادی اور مختلف شعبوں میں تعلقات توقائم ہوگئے مگر فلسطین کامسئلہ پس منظر میں چلا گیا۔ اب میدان میںتنہا فلسطینی ہیں۔ خلیج کے ’’صاحب بہادر‘‘ تو ویسے بھی خود کو افسر سمجھتے ہیں، قطر کے سو ادوسرے خلیجی ملکوں نے برائے نام ہی فلسطینیوں کی حمایت کی،ایسے ہی جیسے دنیا کے کسی دور افتادہ اور پسماندہ مسلمان ملک کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت کی گئی۔

اسرائیل نے 13جولائی کو فلسطین کے ساحلی شہر غزہ کی پٹی پرحملہ کیا اور سیکڑوں فلسطینیوں کو شہید اور زخمی کرنے،بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے استعمال سے تباہی اور بربادی کی خوفناک مثالیں قائم کرنے کے باوجود عرب ممالک نے کوئی انگڑائی نہیں لی۔ ایسے لگ رہا ہے عرب ملک فلسطینیوں کے معاملے میں مکمل طورپر غیر جانب دار ہوگئے ہیں۔ماضی میں ایسے واقعات پر بعض خلیجی ملکوں سعودی عرب، ،قطر، کویت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے فوری امداد کے اعلانات کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اب کی بار ایسا بھی نہیں ہوا۔

نہتے فلسطینیوں کے خلاف جاری صہیونی ریاستی دہشت گردی کے رد عمل میں صرف سعودی عرب کی جانب سے زخموں سے چور اہالیان غزہ کے لیے 50 ملین ڈالر کی امداد کا اعلان کیا گیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ ریاض حکومت کی جانب سے امداد کا یہ اعلان بھی خیالی نکلا اور ابھی تک فلسطینیوںکو اس میں سے ایک دھیلا بھی نہیں دیا گیا ہے۔اس مضمون میں ہم چند اہم عرب ملکوں کے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے ذمہ داریوں اور ان کے منفی اور نہایت مایوس کن کردار کا جائزہ لیں گے۔

مصر

فلسطینیوں کے مسائل کے حوالے سے مصرکو سب سے زیادہ ذمہ دار ملک سمجھا جاتا ہے۔ سنہ 1967ء کی جنگ میں اسرائیل کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد قاہرہ نے صہیونی ریاست کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے قیام کی راہ اپنائی۔ فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی حمایت ترک کردی، جب تک فلسطینی لیڈر یاسرعرفات زندہ تھے تب بھی مصر نے ان کی امن مساعی میں کسی قسم کا تعاون نہیںکیا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا سے رخصت ہونے تک ابو عمار مصرکی بے اعتنائی اور لاپرواہی کا گلہ کرتے رہے۔

مصر کے سابق مرد آہن حسنی مبارک نے اپنی سرزمین کے دروازے اسرائیلیوں کے لیے مکمل طورپر کھول دیے اور نہایت ارزاں نرخوں پراسرائیل کو گیس کی فراہمی بھی شروع کردی۔ جب یاسرعرفات جیسا روشن خیال فلسطینی لیڈر بھی قاہرہ سرکارکے لیے قابل قبول نہ ہو تو بھلا مسلح جدو جہد آزادی پر یقین رکھنے والے شیخ احمد یاسین اور ان کی جماعت حماس کیسے پسندیدہ ہوسکتی تھی۔حماس اس لیے بھی بدنام ٹھہری کہ اس کی اخوان المسلمون کے ساتھ نظریاتی قربت مصری اشرافیہ کے لیے ’’زہر قاتل‘‘ سے کم نہیں۔

ماضی میں مصری حکومتوں نے فلسطینیوں کو بے سہارا رکھنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی۔غزہ کی پٹی کی واحد بین الاقوامی گزرگاہ مصرکی سرحد پرہے، لیکن اسے برائے نام گزرگاہ ہی کا نام دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہاں سے فلسطینیوں حتی کہ عازمین حج وعمرہ کو بھی شرمناک شرائط کے تحت بیرون ملک جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔یہ تو ماضی کی کیفیت تھی۔ لمحہ موجود میں مصر فلسطینیوں کے لیے دوسرا اسرائیل ہے۔جو کام صہیونی فوج نہیں کرسکی وہ مصری فوج نے کردکھایا۔گذشتہ برس تین جولائی کے بعد نہ صرف اخوان المسلمون مصری فوج کے زیرعتاب آئی بلکہ فلسطینی تنظیم حماس بھی سخت ترین پابندیوں میں جکڑ دی گئی۔ چونکہ حماس غزہ کی پٹی میں حکمراں تھی، یہی وجہ ہے کہ تنظیم کو مصری پابندیوں کے باعث سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تیرہ جولائی کو جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی پرحملہ کیا تو نو دن تک مصری حکومت کی جانب سے اس ننگی جارحیت کی مذمت تک نہیں کی گئی۔ نو دن بعد بزدلانہ شرائط پرمبنی ایک سیز فائر تجویز سامنے آئی جس میں حماس او ر فلسطینی تنظیموں سے کہا گیا کہ وہ اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ آج تک کسی عرب اور مسلمان ملک کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں سے ایسا مطالبہ نہیں کیا گیا۔گوکہ فلسطینی تنظیموں نے مصری جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کردی مگر اس نے مصر کے جنرل عبدالفتاح السیسی کی اسرائیل نوازی کا بھانڈہ پھوڑ دیا۔

عبدالفتاح السیسی کی جانب سے اس سے بہتر کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے۔ یہ وہ صاحب ہیں جنہوں نے اپنی صدارتی انتخابات کی مہم میں اسرائیل سے مدد کی اپیل کی تھی۔ انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی موصوف کو دل کھول کرامداد دی۔عبدالفتاح السیسی کی انتخابی مہم پر80 ملین ڈالر کی رقم فراہم کی گئی۔ اس امداد کے حصول کے بعد بھلا مصر کیسے نمک حرامی کرسکتا ہے۔غزہ پراسرائیل کی مسلط کردہ حالیہ جنگ میں مصرکی اسرائیل نوازی کھل کرسامنے آئی اور یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ فلسطینیوں کو مصر سے کسی خیر کی توقع نہیں ہوسکتی۔ کم سے کم جب تک فوجی حکمراں فیلڈ مارشل عبدالفتاح السیسیی کی آمریت قائم ہے وہ فلسطینیوں کی اشک شوئی نہیں بلکہ اپنے محسن اسرائیل کی طرف داری کرے گا۔

اردن

فلسطین سے متصل اردن کی اہمیت بھی مسلمہ ہے۔ اردن فلسطینیوں کے مقدس مقامات کانگراں ہے۔ مسجد اقصیٰ کی براہ راست ذمہ داری عمان حکومت کے سرہے۔ گوکہ اسرائیل پارلیمنٹ کے ذریعے اردن سے مسجد اقصیٰ کی نگرانی حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اردن جتنا بڑا ملک ہے اتناہی فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے اس کا نام آخری درجے میں ہے۔حالیہ جنگ میں بھی اردن کہیں دکھائی نہیں دیا،حتیٰ کہ کوئی ایک عدد مذمتی بیان تک نہیں دیا گیا۔ اردن اسرائیل کے درمیان دوستانہ تعلقات میں فلسطینیوں پر مظالم سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

لبنانی اخبار’’النہار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق مصر اور اردن دو ایسے عرب ملک ہیں جو فلسطین کے پڑوسی ملک ہونے کے باوجود اس اہم مسئلے سے قطعی طور پرلا تعلق ہیں۔موجودہ جنگ میں ان دونوں ملکوں کی لاتعلقی کھل کرسامنے آگئی ہے۔ صرف قاہرہ اور عمان ہی اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تو اسرائیل غزہ کی پٹی پر جارحیت روک سکتا ہے۔مگرا یسا نہیں کیا گیا، دونوں پڑوسی ملکوں کے اس معاندانہ رویے نے فلسطینیوں کوان سے مزید بدظن کیا ہے۔

جملہ معترضہ کے طورپر عرض ہے کہ اُردن کے شاہ عبداللہ دوم ویسے تو بعض اوقات بڑے طمطراق کے ساتھ عالمی مسائل کے حل میں گہری دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بعض اوقات وہ دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت تک سے باز نہیں آتے۔ عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ پرویز مشرف کے بھی گہرے دوست ہیں۔ اخباری اطلاعات یہ بھی ہیں کہ انہوں نے اپنے ہم دم دیرینہ کو بچانے اور بیرون ملک لے جانے کے لیے پس چلمن کوششیں کی ہیں، گوکہ ان کی یہ کوششیں بارآو رثابت نہیں ہوئیں۔

متحدہ عرب امارات

خلیجی ملکوں میں متحدہ عرب امارات سعودی عرب کے بعد اہم ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ یو اے ای کی عالم اسلام میں فلاحی خدمات کوتحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے مگرحیرت ہوتی ہے کہ امداد کے مستحق اہالیان غزہ کے لیے یو اے ای نے نہ صرف کسی قسم کی امداد کا اعلان نہیں کیا بلکہ پہلے سے اعلان کردہ امداد بھی روک دی تھی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ چاہے مصر ہو یااردن یا متحدہ عرب امارات، محض اپنے مفادات کے لیے فلسطینیوں سے کبھی ہمدردی اور گاہے مخالفت کرتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی مسئلہ فلسطین کے حل میں کوئی جاندار سفارتی مساعی کا بھی ذکر نہیں ملتا۔اخبار’’النہار‘‘ کی رپورٹ میں فلسطینیوں کے مسائل میں دلچسپی لینے والے ممالک کی فہرست میں ایسا کوئی نام نہیں ہے۔ مصر اور اردن کے برعکس متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ یو اے ای صہیونی ریاست کو دشمن ملک تصو ر کرتا ہے لیکن اس کے باوجود فلسطینیوں کے ساتھ اس کا رویہ معاندانہ کیوں ہے، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے۔

سعودی عرب

سعودی عرب کو عالم عرب ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کا بھی رہ نماء ملک مانا جاتا ہے۔ فلسطین کے بارے میں سعودی حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کے باوجود ہم ریاض کی خدمات کو سراہے بغیر بھی نہیں رہ سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب بھی فلسطینیوں میں موجود تقسیم کو ختم کرنے کے بجائے ’’اپنے اور پرائے‘‘ کے چکر میں الجھا ہوا ہے۔ فلسطینیوں کی مالی امداد میں سعودی عرب کی مالی امداد کسی بھی دوسرے مسلمان ملک سے بڑھ کرہے۔ اس بار بھی سب سے پہلے سعودی عرب ہی نے اہالیان غزہ کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لیے پچاس ملین ڈالر کی امدا د کااعلان کیا۔ کئی ہفتے گزرنے کے باوجود یہ امداد مستحقین تک کیوں نہیں پہنچ سکی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے۔

مسئلہ فلسطین کے سفارتی اور سیاسی حل میں بھی سعودی عرب کی مساعی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ سعودی حکومت نے فلسطینیوں کے حقوق کی ہرفورم پرحمایت کی۔ البتہ جب سے مصراور سعودی عرب نے اخوان المسلمون کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کی ہے تو اس کی زد فلسطینیوں پر بھی پڑی ہے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ ریاض حکومت فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ سے ناراض ہے اور اسے اخوان کی حمایت کی سزا دی جا رہی ہے۔عرب تھینک ٹینک یہ بات تسلیم کرنے لگے ہیں کہ عرب ممالک اخوان کے حامی اور مخالف بلاک میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ اخوان کے حامیوں کی قیادت قطر اور مخالف بلاک میں مصر اور سعودی عرب سر فہرست ہیں۔

ذیل میں آنے والی جماعتیں اور ممالک خودبخود اپنے ہم خیالوں سے مل جاتے ہیں۔ مثلا متحدہ عرب امارات اور بحرین بھی سعودی عرب کی طرح اخوانی فکر کی سخت مخالفت کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔وقت کے ساتھ ساتھ سعودی عرب بھی فلسطینیوں کے مسائل سے دور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔کیا ہم اسے عرب ممالک کی بے اعتنائی قرار دیں یا اسرائیل کے سامنے تھک ہارکر بیٹھ جانے پرمحمول کریں لیکن لگ ایسے رہا ہے عرب ممالک فلسطینیوں پر مظالم سے غافل ہوچکے ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عرب ممالک میں جاری بغاوت کی تحریکوں نے بھی مسئلہ فلسطین پرمنفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

لمحہ موجود میں تمام عرب ممالک کی توجہ داخلی بحرانوں پر مرکوز ہے۔ مثلا سعوی عرب کو پڑوس میں بحرین میں سیکیورٹی کے مسائل کا سامنا ہے۔ عراق کی موجودہ صورت حال اور داعش کی جانب سے اسلامی خلافت کے اعلان نے تو صورت حال یکسر بدل دی ہے۔ شام میں جاری خانہ جنگی پہلے ہی راستے میں ایک بڑی رکاوٹ تھی۔ عرب ممالک کی طرف سے فلسطین کے مسائل میں عدم دلچسپی دراصل کسی اَن ہُونے خوف کی علامت ہے۔غیر عرب مسلمان ملکوں کا معاملہ دوسرا ہے۔جب عرب ممالک کا یہ حال ہے توہمہ نوع سیاسی اور نظریاتی دھاروں میں منقسم مسلمان ملک کون سا تیر مارسکتے ہیں۔