احادیث اور قرآن کی موبائل ایپلی کیشنززاہد حسین کا نام 2011 میں اس وقت منظر عام پر آیا جب انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں سرچ قرآن سافٹ ویئر پیش کیا، جسے دنیا بھر میں بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔

زاہد حسین نے عالم اسلام کے لیے ایک ایسا کارنامہ سر انجام دیا جسے جتنا بھی سراہا جائے کم ہے۔ قرآن و حدیث پر مزید کام کرتے ہوئے انہوں نے فرقہ واریت کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے احادیث پر مشتمل تمام مکاتب فکر کی کتابوں کو موبائل فون ایپلی کیشن کی شکل میں ڈھا ل دیا ہے۔ گذشتہ دنوں زاہدحسین نے ایک ملاقات میں اپنے حالات زندگی اور مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں گفت گو کی جسے قارئین کی دل چسپی کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔

زاہد حسین کی جائے پیدائش حیدرآباد ہے، انہوں نے اے آر بنات ہائی اسکول سے 1995 میں میٹرک کیا ۔اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز1996میں ٹھیلے پر پھلوں کی فروخت سے کیا۔ کچھ عرصے بعد سبزی منڈی ہی کے ایک آڑھتی جاوید احمد اینڈ سنز کے یہاںنوکری کرلی۔ زندگی میں تبدیلی کا آغاز1998میں اس وقت ہوا جب مالکان نے دیگر ملازمین کے ساتھ اُنہیں بھی کمپیوٹر سکھانے کے لیے ایک انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرادیا۔ اس شارٹ کورس نے زاہد حسین کے دل میں کمپیوٹر کی دنیا سے متعلق دل چسپی کو اور بڑھا دیا۔ انہوں نے کمپیوٹر کے مزید کورسز کرنے کے لیے اپنے مالکان سے درخواست کی۔

تعلیم میں اُن کی دل چسپی کو دیکھتے ہوئے مالک نے انہیں اپنے خرچ پر کمپیوٹر کی تعلیم دلوانا شروع کردی۔ اُس وقت زاہد حسین کی تن خواہ محض 15سو روپے تھی۔ زاہد حسین نے 2001میں کمپیوٹر کے مشہور بین الاقوامی تعلیمی ادارےAptech  میں اسکالر شپ حاصل کی۔ انہوں نے کمپیوٹر کا تین سالہ ڈپلوما ACCP (ایپٹیک سرٹیفائیڈ کمپیوٹر پروفیشنل) حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سندھ یونیورسٹی سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں MBA کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد زاہدحسین نے مختلف تعلیمی اداروں میں تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور کچھ عرصے بعد انہیں Aptech میں ہی بہ طورفیکلٹی ممبر نوکری پر رکھ لیا گیا۔ اُن کی محنت اور لگن کو دیکھتے ہوئے دو سال کے عرصے ہی میں سینٹر اکیڈمک ہیڈ بنا دیا گیا۔

زاہد حسین کے دل میں بچپن ہی سے کچھ کر دکھانے کی خواہش موجود تھی اور فکر معاش سے تھوڑی بے فکری نے انہیں دین اسلام کے حوالے سے کوئی نمایاں کارنامہ سر انجام کرنے کی جانب مائل کیا۔ انہیں دنوں زاہد حسین نے برطانیہ کے جمال الناصرکے قرآنک سرچ انجن  ’’Divine Islam‘‘ کو دیکھا تاہم اُس میں اُردو زبان تصویری شکل (JPEG) میں تھی۔’’Divine Islam‘‘میں موجود اس کمی کو دیکھ کر اُن کے دل میں اُردو میں اسی نوعیت کا سافٹ ویئر بنانے کا خیال آیا جسے انہوں نے اپنی محنت اور لگن سے ’’سرچ قرآن‘‘  کے نام سے عوام کے سامنے پیش کیا۔ جس کے ذریعے چندہی لمحوں میں کسی بھی مسئلے کے حوالے سے قرآن مجید کی تمام سورتیں سامنے آجاتی ہیں۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اس سافٹ ویئر کے بارے میں جان کر میری تشنگی اور بڑھ گئی تھی۔ ایک دن عشاء کی نماز کے بعد مجھے خیال آیا کہ کیوں نہ میں پہلے قرآن مجید کا رومن اُردو (اُردو کو انگریزی رسم الخط میں لکھنا) میں ترجمہ کروں۔ 2007 میں انہوں نے اس کام کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے اُردو ترجمے والے قرآن مجید کو رومن اُردو میں ٹائپ کیا۔ قرآن مجید کے 1750صفحات کو رومن اُردو میں ٹائپ کرنے میں تقریباً دس ماہ کا عرصہ لگا۔ اس عرصے میں زاہد حسین کی ہمت کئی بار ٹوٹی، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پھر ایک نئے عزم کے ساتھ کام کا آغاز کردیا۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ رومن اُردو میں ٹائپ کرنے کے بعد دوسرا مسئلہ ٹائپ کیے گئے مواد کو سافٹ ویئر میں ڈھالنے کا تھا، جس کے لیے میں نے dot.netکو منتخب کیا۔ ڈیٹا بیس ڈیزائنگ اور ڈیولپمنٹ  کے جاں گسل کام کے لیے مجھے کچھ دوستوں کی تیکنیکی معاونت بھی حاصل رہی۔ 2008 میں جب انہوں نے رومن اُردو میں ’’سرچ قرآن‘‘،’’سافٹ ویئر‘‘ پیش کیا تو کچھ لوگوں کی جانب سے اسے بہت زیادہ سراہا گیا تو کچھ لوگوں نے  یہ کہہ کر بے انتہا تنقید کی کہ ’’آپ نے صرف ٹائپ ہی تو کیا اس میں خاص بات کیا ہے۔‘‘

ان سب باتوں نے زاہد حسین کی بہت حوصلہ شکنی کی لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی انہوں نے ایک نئے عزم کے ساتھ اسے اُردو میں متعارف کروانے کا عزم کیا اور ڈیٹا بیس بنانے کے لیے سب سے پہلے قرآن مجید کی ایک ایک آیت کو یونی کوڈ میں تبدیل کیا۔ یونی کوڈ پر کام کرنے کا فائدہ یہ ہوا کہ اب ہم اُن آیات کو سرچ کر سکتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں عربی کی ایک ایک آیات کو یونی کوڈ پر منتقل کیا۔ اس کام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ  آیت کے ’’زیر‘‘، زبر‘‘، ’’پیش ‘‘ اور اعراب کو بھی سرچ کیا جا سکتا ہے۔

انگریزی کے ترجمے کے لیے زاہد حسین نے ’’صحیح انٹرنیشنل‘‘ کا قرآن مجید لیا۔ جس کا انگریزی ترجمہ ڈاکٹر ذاکر نائیک، ڈاکٹر جمال بداوی اور عبدالرحیم کی جانب سے مصدقہ ہے۔ اُردو ترجمے کے لیے انہوں نے انڈیا سے تعلق رکھنے والے محمد جونا گڑھی مرحوم کے ترجمہ شدہ قرآن مجید کا انتخاب کیا جس کا اہم سبب یہ تھا کہ حج کے بعد شاہ فہد پریس کی جانب سے اُن کا اُردو ترجمے والا قرآن مجید ہی عازمین حج کو دیا جاتا ہے۔ رومن اُردو، انگریزی، عربی زبان میں ’’سرچ قرآن‘‘ سافٹ ویئر بنانے میں انہیں چار سال کا عرصہ لگا۔

زاہد حسین کا کہنا ہے،’’میڈیا کے ذریعے میرے کام کو عوام کے سامنے لانے کا سہرا ڈاکٹر عامر لیاقت کے سر جاتا ہے، جنہوں نے مجھے اپنے پروگرام میں مدعو کیا اور میرے سافٹ ویئر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اس پروگرام کو دیکھ کر دنیا بھر کے لوگوں نے مجھے بہت سراہا۔ اس وقت مجھے احساس ہوا کہ یہ سافٹ ویئر صرف میری ذات کے لیے نہیں بل کہ پورے عالم اسلام کے لیے باعث فخر ہونے کے ساتھ ساتھ قرآن کو بہ آسانی سمجھنے میں اہم ہوگا۔ آج الحمدللہ اس سافٹ ویئر کو اسرائیل سمیت دنیا کے 177ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ گذشتہ تین سال میں ایک ہفتہ بھی ایسا نہیں گزرا جب اس سافٹ ویئر کو ڈائون لوڈ نہ کیا گیا ہو۔‘‘

قرآن مجید پر کام کرنے کے بعد زاہد حسین نے احادیث پر بھی ایک سرچ انجن ڈیزائن کیا، جس میں انہوں نے صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابو دائود، سنن نسائی اور سنن ابوماجہ کو ایک ساتھ جمع کردیا، جس میں آپ زندگی کے ہر مسئلے سے متعلق احادیث تلاش کر سکتے ہیں۔ اس کام کو مکمل کرنے کے بعد انہوں نے موبائل پر اس سافٹ ویئر اور ایپلی کیشن بنانے کے کام کا آغاز کیا۔ 2012 میں ایک موبائل فون کمپنی کے لیے ’’سرچ قرآن‘‘ سافٹ ویئر بنایا جو اب تک 5لاکھ نوے ہزار موبائل فون پر ڈائون لوڈ ہو چکا ہے۔ آئی فون کے لیے ’’سرچ قرآن‘‘ ایپلی کیشن بنائی تاہم غیراخلاقی اشتہارات سے بچنے کے لیے اس ایپلی کیشن کی قیمت 2ڈالر 99 سینٹ رکھی گئی ہے۔

اس کے بعد انہوں نے اینڈرائیڈ کے لیے ’’سرچ قرآن‘‘ کے نام سے ایپلی کیشن بنائی اور گوگل کے مطابق اُردو اور رومن اُردو میں احادیث اور قرآن مجید کا اس طرح کا ترجمہ کرنے والی موبائل فون ایپلی کیشن اور سافٹ ویئر بنانے کا اعزاز اب تک زاہد حسین کے پاس ہی ہے۔ اس کام میں درپیش مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے زاہد حسین کا کہنا ہے،’’اینڈرائیڈ ایپلی کیشن ڈیزائن کرنے میں سب سے زیادہ اہم کردار اسلام آباد کے حاجی سیف اﷲ صاحب کا رہا کیوں کہ اس ایپلی کیشن کی ڈیویلپمنٹ اور ہوسٹنگ میں تقریباً 23لاکھ روپے خرچ ہوئے، جو حاجی سیف اﷲ نے ادا کیے۔

اور اب آپ ’’سرچ قرآن‘‘ ایپلی کیشن کو گوگل اسٹور سے بلامعاوضہ ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ موبائل فون ایپلی کیشن بنانے کاسبب زاہدحسین نے یوں بتایا کہ اسمارٹ فون کے صارفین میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے اور اس نئی نسل کے ذہن میں مذہب کے حوالے سے بہت سارے سوالات ہیں لہذا اب وہ اپنے اسمارٹ فون کی مدد سے کسی بھی قسم کے مسئلے میں قرآن و حدیث سے راہ نمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ موبائل ایپلی کیشنز میں اہل تشیع، اہل سنت، اہل حدیث، دیوبندی اور بریلوی مکتبئہ فکر کے لحاظ سے تراجم شامل ہیں۔

زاہد حسین کا کہنا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے تراجم کو ایک ہی ایپلی کیشن میں رکھنے کا سب سے اہم مقصد فرقہ واریت میں کمی لانا ہے، کیوںکہ ہم اپنے مکتبۂ فکر کے بعد کسی دوسرے مسلک کو جگہ نہیں دیتے، جس کی وجہ سے ہم اپنے ہی مسلک کے خول میں قید رہتے ہیں۔ اس اینڈرائیڈ ایپلی کیشن کو ڈائون لوڈ کرکے آپ نہ صرف اپنے بل کہ دوسرے مکتبۂ فکر کے ترجمے کو بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ ہم دوسرے مکتبۂ فکر کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، میں انتہائی معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ہمارے معاشرے میں ایک مکتبۂ فکر کا دوسرے مکتبۂ فکر کے بارے میں 90 فی صد پروپیگنڈا ہے۔

ہم اسی پروپیگنڈے کو سچ مان کر انتہا پسند ہوتے جا رہے ہیں۔ ہم نے کبھی کسی دوسرے مکتبۂ فکر کے بارے میں جاننے، پڑھنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے گذشتہ سات سال میں یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ تمام مکاتب فکر کی تعلیمات (تراجم ) میں صرف دس فی صد فرق ہے۔ باقی نوے فی صد ایک ہی بات پر متفق ہیں۔ میں صرف اتنا کہوں گا کہ اس ایپلی کیشن کو ڈائون لوڈ کریں، دوسرے مسلک کے بارے میں پڑھیں اور یقیناً اس سے فرقہ واریت میں نمایاں کمی ہوگی۔

موبائل ایپلی کیشن ڈیویلپ کرنے کے بعد زاہد حسین کو قاری کی آواز میں تلاوت یا ترجمہ سننے کی تشنگی محسوس ہوئی۔ اس کام کے لیے انہوں نے ایک ایک آیات کو بریک کیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ اب آپ تلاش کی گئی کسی بھی آیت کو عربی یا اُردو لہجے میں سن سکتے ہیں۔ آج قرآن و حدیث کی 65جلدوں کا کام آ پ کے ایک چھوٹے سے موبائل فون میں آجاتا ہے، جس میں قرآن مجید کے چھے اور احادیث کے 59 تراجم شامل ہیں۔

زاہد حسین نے بتایا کہ حال ہی میںایک موبائل فون کمپنی کے لیے ’’اسلامک پورٹل‘‘ کے نام سے ایک اور سافٹ ویئر ڈیزائن کیا ہے۔ الحمداللہ دنیا بھر میں اس کے علاوہ موبائل پر کوئی اور اسلامک پورٹل موجود نہیں ہے۔ اس پورٹل میں انہوں نے احادیث کی تمام کتابوں کوبھی جمع کردیا ہے۔ اس کے علاوہ نماز، روزہ، حج و عمرہ، نماز جنازہ، مسنون دعائیں ترجمے اور تلاوت کے ساتھ موجود ہیں۔ زاہد حسین کو مفتی تقی عثمانی صاحب کی آسان قرآن، نوبل قرآن کی کمپیوٹر اور موبائل ایپلی کیشن اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے پیس موبائل کے لیے ایپلی کیشن ڈیویلپ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے اور اس نیک کام کے لیے انہوں نے اپنی خدمات بلامعاوضہ پیش کی تھیں۔

قرآن مجید اور احادیث کا سرچ انجن بنانے کا مقصد بیان کرتے ہوئے زاہد حسین نے کہا،’’جب آپ کوئی آیت یا حدیث تلاش کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایک انتہائی مشکل کام ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر میں اپنے بیٹے سے کہتا ہوں کہ ’’بیٹا جھوٹ بولنا بری بات ہے اور اللہ تعالی قرآن میں ارشاد فرماتا ہے۔۔۔۔‘‘آج کل کے بچے بہت ذہین ہیں وہ فوراً پوچھتے ہیں کہ دکھائیں کہاں لکھا ہے۔ جب آپ جھوٹ سے متعلق آیت یا حدیث کو تلاش کرنے کے لیے قاری صاحب کو فون کرتے ہیں تو وہ بھی ایک گھنٹے کا وقت مانگتے ہیں، لیکن اب ’’سرچ قرآن‘‘،’’سافٹ ویئر اور موبائل ایپلی کیشن کی مدد سے آپ انگریزی میں ’’Lie ‘‘ اردو اور رومن اردو میں ’’جھوٹ‘‘ لکھ کر سرچ کریں تو چند ہی لمحوں میں جھوٹ سے متعلق ساری آیات آپ کے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون کی اسکرین پر ظاہر ہو جاتی ہیں۔‘‘

زاہد حسین کا ذریعہ معاش تدریس ہے وہ گذشتہ سات سال سے چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کو انفارمیشن ٹیکنالوجی پڑھا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ پاکستان کی مختلف یونیورسٹیزسافٹ ویئر اور ایپلی کیشن بنانی والی بڑی کمپنیوں کے لیے سافٹ ویئر ڈیزائننگ اور کنسلٹینٹسی بھی فراہم کرتے ہیں۔

زاہد حسین آج کل voice recognition (انسانی آواز کا تجزیہ کرنا) پروجیکٹ پر کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا سافٹ  ویئر ہے جو آپ کی آواز کو شناخت کرے گا۔ مثال کے طور پر آپ کہتے ہیں ’’نماز‘‘ تو یہ سافٹ ویئر آپ کی آواز کو شناخت کرکے نماز سے متعلق تمام آیات آپ کو سنانا شروع کر دے گا۔ اس طرح ایک ان پڑھ آدمی بھی قرآن و حدیث سے را ہ نمائی حاصل کرسکے گا۔ اس پراجیکٹ کے لیے انہیں احادیث کو ریکارڈ کرنا پڑے گا جو کہ ایک طویل اور خطیر رقم کا مطالبہ کرتا ہے۔ زاہد حسین کی پاکستان اور پاکستان سے باہر تمام مخیر حضرات سے اپیل ہے کہ وہ اس کارخیر میں اپنا حصہ ڈالیں تاکہ اس پراجیکٹ کو جلد از جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے۔

زاہد حسین کا دوسرا پروجیکٹ 104زبانوں پر مشتمل سرچ انجن تیار کرنا ہے، کیوں کہ دنیا کی 104زبانوں میں قرآن مجید کا ترجمہ ہوچکا ہے اور اس سافٹ ویئر کے ذریعے ہر شخص اپنی زبان میں قرآن پڑھ سکے گا۔ان کا تیسرا پروجیکٹ ’’المعلم‘‘ سافٹ ویئر تیار کرنا ہے، جس کے ذریعے اگر آپ تلاوت کرتے ہوئے کہیں کوئی غلطی کرتے ہیں تو یہ سافٹ ویئر فوراً آپ کی تصحیح کردے گا۔

’’سرچ قرآن‘‘ نامی موبائل ایپلی کیشن کو مفت ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے، جب کہ ایپل آئی فون کے صارفین2ڈالر 99 سینٹ میں اس ایپلی کیشن کو ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔ اینڈ رائیڈ یوزر اپنے موبائل فون سے Play store  میں جاکر Zahid Hussain لکھیں تو یہ قرآن اور حدیث کی ایپلی کیشن حاصل کرسکتے ہیں ، آئی فون / آئی پیڈ کے یوزر App Store میں جاکر Search Quran لکھیں تو یہ ایپلی کیشن وہاں سے حاصل کرسکتے ہیں جبکہ ونڈوز فون پر ڈائون لوڈ کرنے کے لیے Zahid Hussain لکھیں تو یہ ایپلی کیشن با آسانی ڈائون لوڈ کی جاسکتی ہے۔اور کمپیوٹر یوزر www.nuzool.com سے اسے مفت ڈائون لوڈ کرسکتے ہیں۔

طلبہ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد ’’سرچ قرآن‘‘ سے مطلوبہ آیات کو ایم ایس ورڈ میں کاپی کرکے بہ آسانی اپنے نوٹس اور درس بھی تیار کرسکتے ہیں۔ کسی بھی سورت پر کلک کیا جائے تو اس سورت کی تمام آیات بالترتیب ترجمے کے ساتھ ایک بڑے باکس میں نمودار ہوجاتی ہیں۔ اسی باکس کی مینو بار میں چاروں زبانوں کے آپشنز بٹن کی صورت میں دیے گئے ہیں۔ اس مینو بار میں رومن اردو کے سامنے ’’R‘‘ لکھا گیا ہے، چوںکہ مطلوبہ سورت پر کلک کرتے ہی تمام آیات تینوں زبانوں کے تراجم کے ساتھ نمودار ہوجاتی ہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص صرف اردو زبان ہی میں ترجمہ دیکھنا چاہتا ہے تو لینگویج آپشنز میں رومن اردو اور انگلش کے سامنے چیک لگاکر اسکرین پر سے دیگر زبانوں کا ترجمہ غائب کرسکتا ہے۔ تمام آیات کے سامنے ان کا اور پارے کا نمبر درج ہوتا ہے۔

رومن اردو اور انگلش میں مطلوبہ لفظ ٹائپ کرکے فوراً یہ پتا لگایا جاسکتا ہے کہ یہ لفظ ایک پارے میں یا پورے پارے میں کتنی مرتبہ اور کہاں کہاں آیا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یہ جاننا چاہتا ہے کہ پہلے پارے میں ’’نماز‘‘ کا ذکر کتنی مرتبہ اور کس کس مقام پر آیا ہے تو وہ یہ لفظ باکس میں تینوں زبانوں میں سے کسی ایک میں ٹائپ کرنے کے بعد Findپر کلک کردے۔ تاہم کسی بھی زبان میں ٹائپ کرنے سے قبل باکس کے سامنے دیے گئے تینوں زبانوں کے آپشنز میں مطلوبہ زبان کے سامنے چیک لگانا ہوگا۔ اسی طرح صبر، جھوٹ اور سود وغیرہ کے بارے میں جاننے کے لیے بھی Findآپشن کے ذریعے انھیں سرچ کیا جاسکتا ہے۔ مذکورہ آپشن کے ذریعے مطلوبہ عربی الفاظ کو بھی تلاش کیا جاسکتا ہے۔