دوکہانیاں، کئی سبقایک معروف مغربی ماہنامہ کامطالعہ کرتے ہوئے اس کی دوکہانیاں میری نظر سے گزریں۔

پہلی کہانی ایک فلپائنی لڑکی نے لکھی، جس میں وہ اپنے والدکا احوال سناتی ہے، کیسے انھوں نے سخت مشکلات کے درمیان اپنے لئے بڑی کامیابیوں کا راستہ نکالا۔ لڑکی کی زبانی اس کے والد کی حوصلہ وہمت بڑھانے والی کہانی پڑھیے:

’’روشنی کہاں ہے؟‘‘

جب میں چھوٹی تھی تب میرے والد مجھ سے یہ سوال پوچھا کرتے تھے۔ یہ سوال اْن سوالوں میں سے ایک ہے جو اکثر والدین اپنے بچوں کی ذہانت جانچنے کے لیے پوچھتے ہیں۔میرے والد نے مذاق کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ نوعمری میں جب بھی انہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا تو میں جواب میں انہی کی طرف اشارہ کردیتی تھی جس سے وہ مجھے ناسمجھ تصور کرتے۔ میں خودکو ’’ڈیڈی کی بچی ‘‘ قسم کی لڑکی سمجھتی ہوں۔ میرے والد نے کبھی مجھے مایوس نہیں کیا بلکہ وہ میرے لیے اچھی چیزیں خریدتے مثلاً میری سالگرہ کے لیے گڑیا اور جوتے ۔

میں اب 28سال کی ہوں، فلپائن کے شہر بیگوز (Baguis) میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں۔اپنے والد کے مصروف شیڈول کے باوجود ہم ایک دوسرے کے ساتھ گزارنے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں۔ کبھی کسی کافی شاپ میں چلے جاتے ہیں اور اخبار پڑھتے ہیں، کسی مال میں چہل قدمی کرتے ہیں، فلمیں دیکھتے ہیں یا پھر اپنے وطن کے دوسرے حصوں کی سیرکونکل جاتے ہیں۔ میری عمر کے زیادہ تر لوگ خاندان کی بجائے دوستوں کے ساتھ باہر جانا پسند کریں گے لیکن میرے خاندان کے معاملات کچھ انوکھے ہیں۔

یہاں فلپائن میں خاندان زیادہ تر بڑے ہیں۔ بعض خاندان ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی تعداد میں جتنا بھی اضافہ ہو، وہ ایک ساتھ ہی رہتے ہیں۔ اس کے برعکس میرا خاندان چھوٹا ہے۔ میری ایک پیاری اور خیال رکھنے والی ماں ہے۔ ایک فیاض کھلنڈرا بڑا بھائی اور ہمیشہ ہماری بہتری چاہنے والا رہنما باپ۔ انہوں نے میرے بھائی اور میرے ساتھ ہمیشہ ایک دیانت دار زندگی گزارنے والی اقدار شیئر کی ہیں کہ کس طرح خود کو مسلسل تعلیم یافتہ بنانا ہے اور دعا کرتے ہوئے پر امید رہنا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دو باتیں ضروری ہیں ہر اس چیز کو حاصل کرنے کے لیے جس کا ہم پیچھا کرتے ہیں۔

میرے والد نے ایسے باہم مربوط خاندان میں پرورش نہیں پائی جیسا کہ ہم مربوط ہیں۔ میرے والد کا تعلق لایونین سے ہے جو دارالحکومت منیلا کے شمال میں 230کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ایک دیہاتی علاقہ ہے۔ جہاں زیادہ تر لوگ کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ مرغیاں اور مویشی پالتے اور پھر انھیں بیچتے ہیں۔ ان کے والد ایک فنکار تھے اور گلیوں میں کرتب دکھاتے تھے۔ میرے والد ابھی بہت چھوٹے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ گھرکا خرچہ چلانے کے لیے ان کی والدہ مقامی آبادی میں لوگوں کے گھروں میں کپڑے دھونے لگیں۔

میرے والد کی دو بڑی بہنوں اور ایک بھائی کی نو عمری میں ہی شادی ہوگئی اور وہ اپنے گھروں کو فوقیت دینے لگے۔ ایک دوسرا بڑا بھائی کام کی تلاش میں منیلا رخصت ہوگیا۔ کام سے فراغت کے بعد ان کی والدہ زیادہ تر وقت مارکیٹ میں اپنے دوستوں کے ساتھ گزارتیں۔ میرے والد خود کو تنہا محسوس کرتے۔ انہوں نے بچوں کی تربیت سے متعلق احساس، محبت سے عاری، خاندانی قربتوں سے خالی اور خوشیوں سے محروم بچپن گزارا۔ نظر انداز کیے جانے کے احساس کے ساتھ وہ بنیادی ضروریات کے بغیر زندگی گزارتے رہے۔ جب وہ پرائمری سکول میں تھے تو ان کی ماں ان کے لیے نئے جوتے خریدنے کی سکت نہ رکھتی تھی لہٰذا وہ ننگے پاؤں سکول جاتے جبکہ چپل ان کے ہاتھ میں ہوتی اس ڈر سے کہ کہیں پھٹ نہ جائے۔

میرے والد سیلف میڈ شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی میں بہت سی مشکلات آئیں لیکن بہتر طرز زندگی کے خواب کا پیچھا کرتے انھوں نے سفر جاری رکھا۔ چودہ سال کی عمر میں ’اپنی مدد آپ‘ کے تحت انہوں نے اپنے ہائی سکول ہی میں جمعداری کا کام شروع کردیا۔ اپنی ضرورتوں اور محرومیوںکے باوجود انہوں نے ہائی سکول سے گریجویٹ کیا اور کلاس میں اول آئے۔

والد کو مطالعے سے پیار تھا، وہ ہمیشہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع ڈھونڈھتے رہتے۔ ایک دفعہ جب میرے والد 16 سال کے تھے،اپنے معمول کے کام سے فارغ ہوئے تو ایک پادری نے انھیں ایک درخت کے نیچے کتاب میں منہمک دیکھا۔ وہ والد کے پاس آیا اور پوچھا کہ وہ سکول میں کیوں نہیں ہیں؟ میرے والد نے بتایا کہ ان کے پاس کالج میں داخلے کے لیے رقم نہیں ہے۔ رحمدل پادری نے جب تعلیم کے لیے ان کی دلچسپی دیکھی تو بوگیو کالجز (جوکہ اب بوگیو میں یونیورسٹی آف کارڈنیلیرز بن چکا ہے) میں بطور ورکنگ سٹوڈنٹ ان کی سفارش کردی۔ ساتھ ہی اس نے ایک مقامی چرچ میں والد کو جمعدار کی نوکری بھی دلوائی۔ والدصاحب نے بیچلرز آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی اور قانون کے مطالعے کے لیے کمر بستہ ہوگئے۔ کالج میں تعلیم کے دوران بھی وہ زندگی کی مشکلات سے لڑتے ہی رہے ۔

ایک دفعہ ان کے مالک مکان نے انھیں نکال دیا کیونکہ ان کے پاس کرایہ دینے کے لیے پیسے نہیں تھے۔ وہ ایک ڈبے میں اپنا سامان اٹھائے گلیوں میں گھومتے رہے اور آخر کار شہر کے پارک میں پوری رات سردی میں سوکر گزارا کیا۔ اس کے بعد اپنی جگہ پرواپس پہنچنے تک انہوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ قیام کیا۔ تمام تر ناموافق حالات میں والدصاحب نے پوری محنت سے اپنی تعلیم جاری رکھی اور ثابت قدم رہے۔ آخر کار وہ ایک کامیاب وکیل بن گئے جو آج اپنے رفیق کاروں میں قابل احترام شخصیت جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے فلپائن کے قانون پر وسیع پیمانے پر پڑھی جانے والی نصابی کتاب لکھی۔اب وہ کالج آف لاز آف یونیورسٹی آف کاریڈنیلیرز کے ڈین ہیں۔

ان کی کامیابیوں نے مجھے بہت متاثر کیا، انھوں نے مجھے نرس بننے میں میری حوصلہ افزائی کی۔ آج میں اپنے والد کو دیکھتی ہوں تو مجھے سب یادآجاتاہے کہ وہ اپنے سارے مصائب پر قابو پانے کے قابل کیسے ہوئے تھے۔ وہ فطری طور پر ایک محنتی انسان ہیں، انھوں نے اپنے خاندان کو بھلائے بغیر اپنی تمام تر توانائیاں کیریئر بنانے میں صرف کردیں۔ وہ تعلیم سے محبت کرتے ہیں۔ جب ہم نو عمرتھے تو وہ مجھے اور میرے بھائی کو سیکھنے کے عمل کے ذریعے خود میں مسلسل بہتری پیدا کرنے کے لیے اکساتے۔

سب سے اہم یہ ہے کہ میرے والد نے ہمیں وہ زندگی مہیا کی جو وہ اپنے بچپن میں حاصل نہ کرسکے تھے۔ وہ مختلف طریقوں سے اپنی محبت کا اظہار کرتے اور ہمیں سہارا دیتے رہے۔ وہ تسلسل کے ساتھ ہمارے اساتذہ سے ملتے رہے،میں جن گائیکی کے مقابلوں اور کورل کانسرٹزمیں حصہ لیتی ، وہ ضرور شریک ہوتے۔ انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو کالج میں داخل کرایا اور کیریئر کے انتخاب کے سلسلے میںبھی ہماری رہنمائی کی۔ وہ حوصلہ وہمت بڑھانے والی باتیں کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کسی بھی مقصد کے حصول میں دعا کلیدی کردار اداکرتی ہے۔

وہ روشنی کی طرح پورے وقار اور عزت سے چمکتے ہیں۔ محبت اور یقین کی بنیاد پر ہمارے خاندان کو یکجا رکھنے کے لیے ان کی روشنی اپنی پوری چمک کے ساتھ پھیلتی ہے۔

اکثر اوقات جب میرے والد شرارتی موڈ میں ہوتے ہیں اور میرے بچپن کے نک نیم کو استعمال کرتے ہوئے مجھ سے پوچھتے ہیں:’’ ساسی! روشنی کہاں ہے؟‘‘

میں مسکراتی ہوں اور انہی کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔

٭٭٭

دوسری کہانی ایک مسلمان ڈاکٹرمحمد فیروز بن عبداللہ کی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ بعض اوقات ایک ڈاکٹر اپنے مریض کو کیا بہترین تحفہ دے سکتاہے۔

’’ انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں گڈجا ماڈا (Gadjah Mada) یونیورسٹی میں پہلے سات سمسٹرز کے دوران بطور میڈیکل طالب علم میں نے اپنا زیادہ وقت پڑھنے میں اور صرف کلاس رومز تک محدود رہنے میں گزارا۔ شاذو نادر ہی ایسا ہوا کہ میں نے ہسپتال میں کسی مریض سے بات کی ہوگی۔ پھر آخری سال کے دوران میں نے ڈاکٹر سارجیٹو ہسپتال کے نیورولوجی وارڈ میں جانا شروع کردیا۔ میں اپنے مقالے کے لیے مواد اکٹھا کررہا تھا۔ جس کا عنوان تھا:’’ نگلی جانے والی مانعِ حمل ادویات کا اسکیمک فالج میں بطور رسک فیکٹر تنقیدی جائزہ‘‘۔

فالج کی یہ قسم سب سے عام ہے اور یہ دماغ کو خون فراہم کرنے والی آرٹری میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سبب ہوتا ہے لہٰذا میرا کام ہسپتال میں نئے داخل ہونے والے فالج کے مریضوں کے میڈیکل ریکارڈز کا دوبارہ جائزہ لینا تھا۔ اس کے بعد ان مریضوں سے پوچھ گچھ کرنا کہ آیا وہ مانع حمل کی گولی کھاتے رہے ہیں؟ یہ ایک سست عمل تھا۔

پچھلے اکتوبر کی ایک ٹھنڈی اور بارش میں بھیگی شام، میں نیورولوجی وارڈ میں اپنے مطالعے کی تکمیل کے لیے درکار آخری تین مریضوں کو تلاش کررہاتھا۔ ریکارڈز بتا رہے تھے کہ ایک 43سالہ فالج کی مریضہ وارڈ میں موجود تھی جسے میں نے مسز اے (A) کہہ کے مخاطب کرنا تھا۔ مریض کا سوالنامہ ہاتھ میں تھامے میں اس کے کمرے میں چلا گیا۔ وارڈ خالی تھا۔ میں نے کسی ڈاکٹر یا نرس کو وہاں نہ دیکھا۔مسز اے کا کمرہ مدھم روشنی میں ڈوبا ہواتھا اور اس میں کل آٹھ بیڈ تھے۔ میں کھڑکی کے اس پار گہرے بادلوں اور بارش کی گرتی زور دار بوندوں کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ ٹھنڈی ہوا ہسپتال کی مخصوص بو سے اٹی ہوئی تھی۔ مسز اے بیڈ نمبر 4B پردراز تھی۔ وہ اپنے حالیہ فالج کے دورے سے صحت پانے کی تگ و دو کے سبب نحیف دکھائی دے رہی تھی۔ اس کے ساتھ کوئی دوست یا رشتے دار نہیں تھا حتیٰ کہ اس کے ساتھ والا بیڈ بھی خالی تھا۔

میں اس کے بیڈ کے ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گیا اور دھیمی آواز میں اپنا تعارف کراتے ہوئے اس کی خیریت دریافت کی۔ اس نے دھیمی آواز میں بتایا کہ وہ صحت یاب ہورہی ہے مگر اس کے جسم کا بایاں حصہ اب بھی کمزور ہے۔ جب میں نے اسے بتایا کہ میں کچھ اضافی معلومات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تو وہ راضی ہوگئی۔ سوالنامہ سادہ سے تین ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کے سوالات پر مشتمل تھا۔ جب میں نے اپنا کام مکمل کرلیا تو میں رخصت ہونے کی تیاری کرنے لگا تاکہ مزید میڈیکل ریکارڈ کا مطالعہ کرسکوں۔ اس سے پہلے کہ میں اٹھتا مسز اے اپنی کمزور آواز میں گویا ہوئیں:’’ ڈاکٹر!میں نے تمہیں پہلے یہاں نہیں دیکھا، کیا تم نئے آئے ہو؟‘‘

’’قطعی نہیں میڈم!‘‘ میں نے جواب دیا’’ میں یہاں روزانہ نہیں آتا‘‘۔

پھر اس نے گفتگو شروع کردی اور پوچھنے لگی کہ میرا تعلق کہاں سے ہے اور میں شام کو اتنی دیر تک کام کیوں کررہا ہوں؟ مجھے حیرت ہوئی کہ کوئی اس حالت میں بھی باتیں کرنے کا خواہش مندہوسکتاہے۔

’’ ڈاکٹر! تمہارا کیا خیال ہے، میں دوبارہ اپنی نارمل زندگی حاصل کرسکتی ہوں؟‘‘ مسز اے نے ایک لمحہ ٹھہرکرسوال کیا۔ میں نے بھی ایک لمحہ سوچا کاش! میں تمہارا ڈاکٹر ہوتا تو تمہارے سوال کا مناسب جواب دے سکتا۔ پھرمیں نے کہا:’’میں آپ کے کیس کے متعلق زیادہ معلومات نہیں رکھتا‘‘۔ میں اسے صرف وہی بتاسکا جو میں نے فالج کے مریضوں کی صحت سے متعلق پڑھ رکھا تھا۔ صحت کی بحالی کے لیے درکار وقت کا انحصار براہ راست فالج کے حملے کی شدت پر ہوتاہے۔ میں زیادہ تفصیل میں جانے سے ہچکچا رہا تھا کیونکہ میں محض میڈیکل کا طالب علم تھا۔ پھرمسز اے نے اپنے متعلق باتیں کرنا شروع کردیں۔

اس نے بتایا’’ اس کے تین بچے پرائمری سکول میں تھے جو اب ایک ہمسائے کے ہاں رہ رہے تھے۔ میرے شوہر کا ایک سال پہلے انتقال ہوگیا تھا اور اب میں اپنے گھرانے کی واحد کفیل ہوں۔ ہم امیر نہیں ہیں اور بطور سویپر میری تنخواہ میرے اور میرے بچوں کے لیے مشکل سے پوری ہوتی ہے‘‘۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا بولوں۔

اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے میں نے چند سال پہلے کمیونیکیشن کی مہارتوں سے متعلق پڑھے ہوئے اسباق کو یاد کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر میرا دماغ خالی نکلا۔ اسے مزید توجہ نہ دے سکنے پر میں نے خود کو کوسا۔ غیر ارادی طور پر میں نے مسز اے کا ہاتھ پکڑلیا۔ کیونکہ میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ جب تک وہ بولتی رہی میں خاموشی سے بیٹھا سنتا رہا۔ اسی وقت مجھے اس بات کا ادراک ہوا کہ اسے مجھ سے کسی قسم کے جواب کی تمنا نہیں تھی۔ وہ مجھ سے صرف اتنا چاہتی تھی کہ میں اسے سنتا رہوں۔

گفتگو تقریباً بیس منٹ تک چلتی رہی۔ اس نے اپنی مشکلات اور مسائل کے متعلق بتایا۔ اپنے شوہر کی باتیں کیں جو ایک کار حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا اور پھر پیسہ کمانے کے لیے اپنی کوششوں کا ذکر کیا۔ اس نے اپنے اس خوف کا اظہار بھی کیا کہ اگر اس کے ساتھ کچھ ایسا ویسا ہوگیا تو اس کے بچوں کا کیا ہوگا۔ اس دوران میں نے جو کیا وہ بس اتنا تھا کہ اس سے ہمدردی کے اظہار کے لیے اپنا سر ہلاتا رہا۔ آخر کار مسز اے نے گفتگو ختم کی اور کہا ’’میں بہت معذرت خواہ ہوں کہ میں نے تمھیں اپنے مسائل سننے میں لگا لیا لیکن اب میں خود کو پرسکون محسوس کررہی ہوں، ایسا کوئی بھی نہیں ہے جس سے میں اپنے مسائل شیئر کرسکتی۔‘‘

میری آنکھ کے کونے سے ایک آنسو گرا۔ میں نے اس کے بال سہلائے اور اس کا ہاتھ تھامے رکھا۔ آخر کار میں جانتا تھا کہ مجھے اب کیا کہنا ہے۔ ’’کوئی بات نہیں مادام! یہ میرے فرائض میں شامل ہے‘‘۔

’’شکریہ ڈاکٹر… بہت زیادہ شکریہ!!!‘‘ اس نے میرا ہاتھ چھوڑ دیا۔

میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اسے کمبل اوڑھایا اور ’گڈبائے‘ کہتے ہوئے اسے اکیلا چھوڑ دیا۔

کچھ دن بعد جب میں دوبارہ وارڈ میں گیا تو مجھے پتا چلاکہ مسز اے ڈسچارج ہوچکی ہیں کیونکہ اس کی حالت میں بہت بہتری آگئی تھی۔ اگرچہ اسے مزید بحالی کی ضرورت تھی۔ مسز اے نے مجھے بہترین سبق سکھایا تھا جو ایک ڈاکٹر سیکھ سکتا ہے۔ بعض اوقات مریضوں کو مہنگی ادویات یا سٹیٹ آف آرٹ ٹیکنالوجی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہیں کسی ایسے انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو ارادتاّ اور صبر کے ساتھ اپنے وقت میں سے کچھ وقت ان کے لیے وقف کرکے انہیں سن سکے۔ میرے نزدیک یہ بہترین عمل ہے جو ایک ڈاکٹر اپنے مریض کے ساتھ کرسکتا ہے‘‘۔