نامور مسلمان جغرافیہ دان، جنھوں نے علم جغرافیہ کو بامِ عروج تک پہنچا دیاعلم جغرافیہ کی اہمیت کے پیش نظر مسلمان اہل علم نے اس پر بہت زیادہ توجہ دی۔ پہلے زمانے کے مسلمان دنیا بھر میں تبلیغ، جہاد، حصول علم، سیاحت اور تجارت کے لیے آتے جاتے رہتے تھے۔انہوں نے طرح طرح کے جغرافیائی اکتشافات کیے اور اس فن میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔ اس کا فائدہ پوری امت مسلمہ بلکہ پوری دنیا کے اہل علم مجاہدین اور تاجروں کو ہوا۔ ذیل میں چند مشہور مسلمان جغرافیہ دانوں کا مختصر تعارف دیا جاتا ہے تاکہ آج کے مسلمانوں کو معلوم ہو کہ ہمارے اکابر کیا تھے۔

-1 خوارزمی:

ان کا نام عبداللہ بن محمد بن موسیٰ خوارزمی تھا۔ آپ مشہور علم دوست اور علم پرور خلیفہ ’مامون‘ کی سرپرستی میں ان کے قائم کردہ ادارے ’’دارالحکومت‘‘ میں علمی خدمات انجام دیتے تھے۔ خوارزمی نے عالمگیر شہرت پائی ان کی شہرت کی ایک اہم وجہ ان کی مشہور زمانہ ریاضی کی کتاب’’ المختصر فی حساب الجبروالمقابلہ‘‘ ہے۔ ان کی علم جغرافیہ کے لیے انجام دیئے جانے والی خدمات کی ایک طویل فہرست ہے۔ اس میں سے ایک کارنامہ (صورۃ الارض) نامی کتاب کی تصنیف بھی ہے جس میں انہوں نے مختلف قدرتی اور آدم ساز (انسانوں کے بنائے ہوئے) خطے مثلاً پہاڑوں سمندروں، جزیروں، دریائوں، نہروں اور شہروں کو ان کے ناموں کی ترتیب کے اعتبار سے ارضیاتی نقشہ جات میں وقت اور تصحیح کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

اس کے لیے انہوں نے ’’علم الفلکیات‘‘ کے ایک اہم ترین مفروضے یعنی کرۂ ارض کی سات براعظموں میں تقسیم کا سہارا لیا ہے اور نقشہ سازی کے فن میں علیحدگی اور جدت طرازی کی ایک مثال قائم کی ۔ بعض مغربی مصنفین نے ان کی کتاب پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے۔’’پوری مغربی تہذیب اس کتاب کے مقابلے میں کوئی ایک تصنیف پیش نہیں کر سکتی کہ جس پر وہ فخر کر سکے۔ بلا شبہ اس کتاب نے علم الجغرافیہ پر بڑا گہرا اثر ڈالا ہے۔‘‘

-2 یعقوبی:

ان کا نام احمد بن جعفر بن وہب یعقوبی اور کنیت ابوالعباس تھی۔ ان کی پیدائش بغداد میں ہوئی اور 298ھ (891ء) میں وفات پائی۔ وہ اپنی جوانی کے ابتدائی زمانے ہی سے سیروسیاحت اور سفر کے شوقین تھے۔ ان کو شہروں کے احوال ان کو ملانے والے راستوں اور ان کے درمیان مسافتوں کی پیمائش سے واقفیت حاصل کرنے کا جنون تھا۔ ان کی کتاب ’’البلدان‘‘ AL.BALDAN کے مخلوطے کا شمار ہمارے زمانے میں پائے جانے والے اہم ترین جغرافیائی مخطوطات میں سے ہوتا ہے۔ ان کا انداز تحریر آسان ، سہل اور سلیس تھا۔ وہ نہایت خوبصورت انداز میں اپنی معلومات قارئین کے سامنے پیش کرتے تھے۔ انہوں نے زمین کو جہات اصلیہ اربعہ یعنی مشرق، مغرب، شمال اور جنوب کا اعتبار کرتے ہوئے چار اقسام میں تقسیم کیا۔ براعظموں کو سلطنتوں اور ملکوں میں تقسیم کے اعتبار سے یعقوبی کو علم جغرافیہ کا مجدد سمجھا جاتا ہے۔

-3 ہمدانی:

ان کا نام حسن بن احمد بن یعقوب ہمدانی تھا اور کنیت ابو محمد تھی یہ یمنی تھے۔ یمن میں پیدا ہوئے اور وہیں پرورش پائی۔ یمن کے شہر صنعاء میں 280ھ میں ولادت اور 334ھ میں وفات پائی۔ وہ علم تاریخ کے بحر بیکراں تھے۔ جغرافیہ اور فلکیات سے بڑی اعلیٰ درجے کی واقفیت تھی۔ ان کا شمار ’’براعظمی جغرافیہ‘‘ پر قلم اٹھانے والے لکھاریوں میں سے ایک بہترین لکھاری کے طور پر ہوتا ہے۔ اس صنف میں ان کی کتاب صنعۃ جزیرۃ العرب‘‘ اپنی نوعیت کی انوکھی کتاب شمار ہوتی ہے۔

ہمدانی نے اپنی اس کتاب کی ابتداء بطور تمہید ریاضیائی جغرافیہ سے کی اور طول البلد کے خطوط اور عرض البلد کے دائروں کے تعین کے مختلف طریقوں کو تفصیل سے بیان کیا اور ’’بطلیموس‘‘ کی پیروی کرتے ہوئے زمین کو سات براعظموں میں تقسیم کیا اور آخر میں کتاب کے بنیادی موضوع یعنی ’’جزیرۃ العرب کی ارضیاتی تقسیم‘‘ کو بیان کرتے ہوئے سرزمین عرب کو نجد، تہامہ، حجاز، عروض اور صیحن پانچ مناطق میں تقسیم کیا اور ہر ایک کی تفصیل بیان کی۔

-4 البیرونی:

ان کا نام ’’محمد بن احمد البیرونی‘‘ تھا۔ یہ بیرون میں 362ھ (973ء) میں پیدا ہوئے۔ علم المثلث ریاضی، جغرافیہ، علم نجوم، کیمیا اور کئی علوم میں مہارت حاصل کی اور بالآخر ان میں امامت کے درجہ کو پہنچے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات میں خصوصی طور پر اس نکتے پر زور دیا ہے کہ خط استوا کے جنوب میں واقع علاقوں میں اس وقت سردی کا موسم ہوگا جب ہمارے ہاں یعنی خط استوا کے شمال میں واقع علاقوں میں گرمی کا موسم ہوتا ہے۔ بعد میں یہی نکتہ اس نظریہ کی بنیاد بنا کہ کرہ ارض کے چار مختلف موسم اس کے قطبی محور پر 23.5 درجے کے جھکائو کے ساتھ گھومنے کا شاخسانہ ہیں۔ البیرونی کی جغرافیہ کے عنوان پر تصنیفات میں سے ایک اہم تصنیف ’’تحدید نہایۃ الاماکن تصحیح سافات المساکن‘‘ ہے جو اپنے موضوع پر سند سمجھی جاتی ہے۔

-5 البکری:

ان کا نام عبداللہ اور کنیت (ابو عبید) تھی، اندلس کے شہر قطبہ میں 432ھ میں ولادت اور 487ھ میں وفات ہوئی ۔ ان کو بلا اختلاف بلاد اندلس کا عظیم ترین جغرافیہ دان مانا جاتا ہے۔ ان کی علم جغرافیہ میں دو مشہور اور اہم تصنیفات ہیں۔ ایک کا نام ’’المسالک والممالک‘‘ ہے۔ اس کتاب سے بعد کے جغرافیہ دانوں کی ایک بڑی تعداد جیسے یاقوت اور دمشقی وغیرہ نے کافی استفادہ حاصل کیا۔ دوسری تصنیف میں انہوں نے شہروں کی معجم حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب دی۔ اس کتاب کو بھی اپنی نوع میں ایک بے مثال تصنیفی کارنامہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ بیک وقت جغرافیہ، قدیم عربی تاریخ اور اشعار جاہلیہ جیسے موضوعات پر مشتمل ہے۔

-6 ادریسی:

ان کا نام محمدبن عبداللہ بن ادریس تھا، سبتہ کے شہر میں 463ھ (1100ء) کو ولادت اور 560ھ کو انتقال ہوا۔ ’’سبتہ‘‘ درۂ جبل الطارق کے کنارے واقع مراکش کے مشہور ساحلی شہر ’’طنجہ‘‘ کے قریب واقع ہے۔ ادریسی نے سب سے پہلے زمین کا نقشہ بناکر اسے چاندی کی ایک پلیٹ جس کا وزن تقریباً 112 درہم تھا پر کندہ کروایا۔ اس نقشے میں انہوں نے کرۂ ارض کو سات براعظموں میں عرض البلد کے دائروں کی صورت میں تقسیم کیا تھا علم جغرافیہ میں ان کے 3 کارنامے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔ -1 کاغذ پر زمین کا ابتدائی نقشہ، -2 زمین کا چاندی کی پلیٹ پر اپنی نوعیت کا انوکھا نقشہ، -3 ان کی کتاب ’’المشتاق فی اخراق الآفاق‘‘ جس میں دنیا بھر کے ملکوں اور شہروں کے احوال درج تھے۔

-7 یاقوت حموی:

یاقوت ایک غلام تھے۔ انہیں ایک حموی تاجر نے خریدا تھا۔ ان کی ولادت 575ھ 1179ء اور وفات 627ھ (1229ھ) میں ہوئی۔ علم الجغرافیہ سے انہیں خصوصی شغف تھا۔ انہوں نے جغرافیہ کے عنوان پر ایک معجم ترتیب دی جس کے مقدمے میں دیگر فنون کے علاوہ فن جغرافیہ پر خصوصی گفتگو کی۔

مقدمے کے بعد انہوں نے جغرافیے کے مختلف 5 ابواب قائم کیے اور ان میں مندرجہ ذیل باتوں پر سیر حاصل گفتگو (بحث)کی۔ -1 جغرافیائی نظریات: جن کا تصور اس بات کو ثابت کرنا تھا کہ زمین گول ہے، آسمان کے اطراف اسے مقناطیس کی طرح ہر جانب سے کھینچ رہے ہیں۔ -2 کرہ ارض کی سات براعظموں میں تقسیم جس کی بنیاد پر 12 برج اور ان کے تحت واقع ہونے والے علاقے تھے۔ -3 طول البلد اور عرض البلد کے خطوط اور فلکیاتی جغرافیہ کی بعض اصلاحات، -4 جن علاقوں میں مسلمانوں نے فتوحات کی تھیں ان کے حالات اور ان میں وقوع پذیر ممالک کی طبعی و سیاسی تقسیم۔

-8 ابن ماجد:

ان کا نام احمد بن ماجد سعدی نجدی اور لقب شہاب الدین تھا۔ خلیج عمان کے مغربی ساحلی علاقے میں ان کی پیدائش ہوئی۔ ان کی تاریخ پیدائش اور وفات کے بارے میں تاریخ خاموش ہے۔ بس اتنا معلوم ہے کہ نجدی خاندان کے فرد تھے جو کشتیوں اور سمندری سفر کی قیادت کا خصوصی شغف رکھتے تھے اور اس میں مہارت بھی تھی۔ ان کے والد اور دادا کا نام بہترین سمندری جہاز رانوں میں ہوتا تھا جو بحری جغرافیہ کے علوم سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔

ابن ماجد نے اپنے باپ دادا کے علمی ورثے سے خوب استفادہ حاصل کیا اور اپنے تجربات کی روشنی میں اس فن پر تصنیفات کا ڈھیر لگادیا۔ ان کی اہم نثری تصنیف کتاب الفوائد فی اصول علم الجروالقواعد ہے۔ ان کے شعری مجموعے میں سب سے ضخیم کتاب حاویہ الافتحار فی اصول علم البحار ہے جس میں تقریباً ایک ہزار اشعار فصلوں کی صورت میں ہیں۔ وہ سمندری راستوں اور نقشوں کے موجد اور بانی تھے۔ جن سے بعد میں آنے والے مغربی جہاز رانوں نے اپنی تحقیق اور انکشافات میں خوب کام لیا۔

-9 ابن بطوطہ:

1304ء میں پیدا ہونے والے معروف سیاح ، مورخ اور جغرافیہ دان ابوعبداللہ محمد ابن بطوطہ کا انتقال1378ء میں ہوا۔ یہ مراکش کے شہر طنجہ میں پیدا ہوئے۔ ادب، تاریخ، اور جغرافیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اکیس سال کی عمر میں پہلا حج کیا۔ اس کے بعد شوق سیاحت نے افریقہ کے علاوہ روس سے ترکی پہنچا دیا۔ جزائر شرق الہند اور چین کی سیاحت کی۔ عرب، ایران ، شام ، فلسطین ، افغانستان ، اور ہندوستان بھی گئے۔

وہ محمد تغلق کے عہد میں ہندوستان آئے تھے۔ سلطان نے اْن کی بڑی آؤ بھگت کی اور قاضی کے عہدے پر سرفراز کیا۔ یہیں سے ایک سفارتی مشن پر چین جانے کا حکم ملا۔ 28 سال کی مدت میں انہوںنے 75ہزار میل کاسفر کیا۔ آخر میں فارس کے بادشاہ ابوحنان کے دربار میں آئے۔ اور اس کے کہنے پر اپنے سفر نامے کو کتابی شکل دی۔ اس کتاب کا نام عجائب الاسفارفی غرائب الدیار ہے۔ یہ کتاب مختلف ممالک کے تاریخی و جغرافیائی حالات کا مجموعہ ہے۔

-10ابن رشد:

جغرافیہ دان ، فلسفی، ریاضی دان، ماہر علم فلکیات اور ماہر فن طب ابن رشد قرطبہ میں 1126ء میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام ابو الولید محمد بن احمد بن محمد بن احمد بن رشد القرطبی الاندلسی ہے۔ ابن طفیل اور ابن اظہر جیسے مشہور عالموں سے دینیات ، فلسفہ ، قانون ، علم الحساب اور علم فلکیات کی تعلیم حاصل کی ۔ یوں تو ابن رشد نے قانون ، منطق ، قواعد زبان عربی، علم فلکیات،جغرافیہ اور طب پر متعدد کتب لکھی ہیں۔ مگر ان کی وہ تصانیف زیادہ مقبول ہوئی ہیں جو ارسطو کی مابعدالطبیعات کی وضاحت اور تشریح کے سلسلے میں ہیں۔ ابن رشد 1198 عیسوی کو مراکش میں انتقال کرگئے۔ جمال الدین العلوی نے ابن رشد کی 108 تصانیف شمار کی ہیں جن میں سے ہم تک عربی متن میں 58 تصانیف پہنچی ہیں، ابن رشد کی اس قدر تصانیف میں خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ارسطو کے سارے ورثے کی شرح لکھی۔

-11ابن سینا:

ان کا مکمل نام علی الحسین بن عبد اللہ بن الحسن بن علی بن سینا (980 تا 1037 عیسوی) ہے جو کہ دنیائے اسلام کے ممتاز طبیب اور فلسفی ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے جغرافیہ کے میدان میں بھی کافی کام کیا ۔ ابن  سینا کو مغرب میں Avicenna کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ‘‘الشیخ الرئیس’’ ان کا لقب ہے۔ ان کا حافظہ بہت تیز تھا۔ جلد ہی سلطان نوح بن منصور کا کتب خانہ چھان مارا اور ہمہ گیر معلومات اکٹھی کر لیں۔ اکیس سال کی عمر میں پہلی کتاب لکھی۔ ایک روایت کے مطابق بو علی سینا نے اکیس بڑی اور چوبیس چھوٹی کتابیں لکھی تھیں۔ بعض کے خیال میں اس نے ننانوے کتابیں تصنیف کیں۔ جغرافیہ میں انھوں نے پہاڑوں کا بننا، موسموں کا اتار چڑھائو اور زمین میں آنے والی تبدیلیوں پر کافی تحقیق کی۔

-12ابن الہیثم:

ان کا پورا نام ‘‘ابو علی الحسن بن الہیثم’’ ہے لیکن ابن الہیثم کے نام سے مشہور ہیں۔ ابن الہیشم (پیدائش: 965 ء ، وفات: 1039 ء ) عراق کے تاریخی شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ طبیعات ، ریاضی ، انجینئرنگ،جغرافیہ، فلکیات اور علم الادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔ ان کی وجہ شہرت آنکھوں اور روشنی کے متعلق تحقیقات ہیں۔ ابن ابی اصیبعہ ’’عیون الانباء فی طبقات الاطباء‘‘ میں کہتے ہیں ’’ابن الہیثم فاضل النفس، سمجھدار اور علوم کے فن کار تھے، ریاضی میں ان کے زمانے کا کوئی بھی سائنسدان ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا، وہ ہمیشہ کام میں لگے رہتے تھے، وہ نہ صرف کثیر التصنیف تھے بلکہ زاہد بھی تھے۔‘‘ جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ نے کہا وہ واقعی کثیر التصنیف تھے، سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی 237 تصانیف شمار کی گئی ہیں۔

-13المسعودی:

مشہور مسلم مؤرخ، جغرافیہ دان اور سیاح المسعودی بغداد میں 896ء میں پیدا اور 956ء میں وفات پا گئے۔ اس عظیم سیاح نے اپنے شہر سے پہلا سفر ایران کا کیا اور پھر وہاں سے ہندوستان (موجودہ پاکستان) کے علاقوں کا سفر کیا۔ انہوں نے یہاں سندھ اور ملتان کی سیر کی اور پھر ہندوستان کے مغربی ساحلوں کے ساتھ ساتھ کوکن اور مالابار کے علاقوں سے ہوتے ہوئے لنکا پہنچے۔

یہاں وہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ چین گئے۔ چین سے واپسی پر انہوں نے زنجبار کا رخ کیا اور مشرقی افریقہ کے ساحلوں کی سیر کرتے ہوئے مڈغاسکر تک پہنچے۔ یہاں سے جنوب عرب اور عمان ہوتے ہوئے اپنے شہر بغداد واپس پہنچے۔ اس عظیم سیاح و جغرافیہ دان نے 20 سے زائد کتابیں تصنیف کیں لیکن افسوس کہ ان کی صرف دو کتابیں اب باقی بچی ہیں جن کے نام مروج الذہب اور التنبیہ و الاشراف ہیں۔ مسعودی کی کتابوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے مطالعے سے چوتھی صدی ہجری کی زندگی آئینے کی طرح سامنے آ جاتی ہے اور اس زمانے کی تہذیب و تمدن کا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔