کم کھانے سے وزن کم نہیں ہوتا؟آپ یہ ضرور جانتے ہوں گے کہ وزن گھٹانے کے لئے کم کھانا اور زیادہ ورزش کرنا موثر عمل ہے، لیکن جب یہ طریقہ کار آپ کے مطلوبہ وزن کے حصول سے کچھ دور رک جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اب آپ کے میٹابولزم یعنی غذا کو جزو بدن بنانے کے عمل کو مدد یا طاقت کی ضرورت ہے، تو یہاں ہم آپ کو ماہرین کے مشوروں کی روشنی میں وزن گھٹانے کے بارے میں ہونے والی نئی تحقیقات کے بارے میں بتائیں گے۔
12سو کیلوریز روزانہ: یہ آپ کو کچھ عجیب لگے گا لیکن روزانہ 12 سو سے کم کیلوریز لینے والوں میں وزن گھٹانے کا عمل قدرے سست ہو جاتا ہے۔ امریکی ماہر خوراک ڈاکٹر کیری گینز کا کہنا ہے کہ جب آپ جسم کی ضرورت کے برعکس کم کیلوریز حاصل کرتے ہیں تو یہ عمل فاقہ کشی کی طرف لے جاتے ہوئے چکنائی کو جمع کرنے لگتا ہے۔ 5 فٹ 5 انچ کی ایک خاتون کو روزانہ 14سو سے 17سو کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کیلوریز ایسی غذائوں سے حاصل کی جانی چاہئیں، جو فائبر (ریشوں) سے بھرپور ہو۔
آئرن بھرنے کی مشین: لیحمن کالج کے ڈائریکٹر آف ہیومن پرفارمنس براڈ شونفیلڈ کا کہنا ہے کہ آپ کا جسم پروٹین کے مرکبات کے ذریعے پٹھوں کو مضبوط بنائے رکھتا ہے اور یہی چیز کیلوریز کے اخراج کا ذریعہ بھی ہے۔ 25 فیصد تک وزن گھٹانے کا ذریعہ پٹھوں کے ریشے ہوتے ہیں۔
حرکت میں رہیں: ماہر طب ڈاکٹر جیمز ڈی لینے کے مطابق جسم کو حرکت میں رکھنے سے میٹابولزم تیز ہو جاتا ہے۔ اور وہ لوگ جو خود کو ورزش نما سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں، ان لوگوں کی نسبت زیادہ وزن گھٹا پاتے ہیں، جو بیٹھے رہتے ہیں۔ لہذا لفٹ استعمال کرنے کے بجائے اوپر یا نیچے جانے کیلئے سیڑھیوں کا استعمال کریں۔
سمندری کائی: نیپالی ماہرین طب ڈاکٹر کیرولین جے کہتے ہیں کہ چربی کے اخراج کے لئے سبز چائے اچھی شہرت رکھتی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی کچھ غذائیں ایسی ہیں، جن کے استعمال سے وہی کام لیا جاسکتا ہے، جو سبزچائے کرتی ہے، یعنی سمندری کائی میں بھی وہ اجزاء پائے جاتے ہیں جو وزن کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
سرکہ کے ساتھ سلادکااستعمال: Eat Right for Life کے مصنف ڈاکٹر این کولزے کے مطابق سرکہ میں شامل ایسڈ چکنائی کو جلانے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ سرکہ کو سلاد میں شامل کرنے سے بھی وزن گھٹانے میں مدد ملتی ہے۔
مچھلی: ماہر خوراک جونی بائیڈن کا کہنا ہے کہ مچھلی اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سے بھرپور ہوتی ہے، جو میٹابولزم کو حیران کن حد تک متحرک کر دیتی ہے۔ مچھلی کا تیل تھیورائیڈ ہارمونز کو بڑھا کر اسے چکنائی کے اخراج کے عمل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
کیلوریز کے حصول کا ذریعہ بدلنا: امریکی ڈاکٹر کیڈیرکیوسٹ وارنز کے مطابق اگر آپ مسلسل ایک ہی ذریعہ سیے کیلوریز حاصل کر رہے ہیں تو اس سے آپ کا جسم میٹابولک سطح کو کم کر سکتا ہے، لہذا کیلوریز کے حصول کا ذریعہ (غذا) بدلتے رہنا چاہیے۔
ڈیری مصنوعات: میٹابولک میتھڈ کے مصنف ڈاکٹر شان ٹلبوٹ کہتے ہیں کہ دودھ سمیت تمام ڈیری مصنوعات میں این آر نامی ایک خاص جزو ہوتا ہے، جو چکنائی کو جلانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ غذا کو جزو بدن بنانے کے عمل کو بھی تقویت پہنچاتا ہے۔
تربوز: ڈاکٹر شان ٹلبوٹ کا مزید کہنا ہے کہ تربوز میں پایا جانے والا امینو ایسڈ نہ صرف جسم سے چکنائی کے اخراج کا ذریعہ ہے بلکہ یہ چکنائی کو سٹور بھی نہیں ہونے دیتا۔