شہریار کی’’دوسری اننگز‘‘ کیلئے میدان تیارلاہور: حکومت نے نجم سیٹھی اور شہریارخان کوگورننگ بورڈ کا رکن نامزد کردیا، یوں 80سالہ سابق سیکریٹری خارجہ کی بطور چیئرمین ’’دوسری اننگز‘‘کیلیے میدان تیار ہوگیا۔
پی سی بی کو نیا منتخب سربراہ سونپنے کی ذمہ داری جسٹس(ر) ثائر علی کے کندھوں پر آپڑی، وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر کام کرنے کے ساتھ چیف الیکشن کمشنر کے فرائض بھی سرانجام دیں گے، انھیں30 دن میں انتخابات کرانا ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے بطور چیف پیٹرن کرکٹ بورڈجسٹس ریٹائرڈ محمد ثائر علی کو قائم مقام چیئرمین اور الیکشن کمشنر مقرر کردیا ہے، وزارت بین الصوبائی رابطہ کی طرف سے جاری شدہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ تقرری21جولائی کو سامنے آنے والے سپریم کورٹ کے فیصلے میں احکامات پرکی گئی،اس میں پی سی بی کے نئے آئین کے تحت الیکشن کرانے کیلیے کہا گیا تھا۔
جسٹس ریٹائرڈ محمد ثائر علی پاکستان کرکٹ بورڈ کے آئین کی شق 7 ( 2 ) کے تحت قائم مقام چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داری نبھاتے ہوئے30 روز میں انتخابات کرائیں گے۔ وزیراعظم نواز شریف نے نجم سیٹھی اور شہریار خان کو گورننگ بورڈ کا رکن بھی نامزد کیا ہے،اس سے قبل اقبال عمر حکومت کے نامزد کردہ ممبر کے طور پر شامل کیے گئے تھے۔ نئے پی سی بی آئین کے تحت چیئرمین کے انتخاب کیلیے ہونے والے پہلے الیکشن میں10گورننگ بورڈ ارکان حصہ لینگے، ان میں قائداعظم ٹرافی کی4سرفہرست ٹیموں کے ریجن اور4 ڈپارٹمنٹس نمائندوں کیساتھ وزیراعظم کے نامزد کردہ 2 نمائندے شامل ہیں۔ واضح رہے کہ نجم سیٹھی عدالت کے روبرو الیکشن میں حصہ نہ لینے کا پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں۔
لہٰذا امکان یہی نظر آرہا ہے کہ اقبال عمر کی جگہ حکومتی نامزد رکن کے طور پر شامل کیے جانے والے 80سالہ شہریار خان ہی پی سی بی کے نئے چیئرمین منتخب ہو جائیں گے، وہ پہلے بھی اس عہدے پر فائز رہ چکے ہیں، شہریار مختلف ممالک میں بطور سفارتکار کام کرنے کے بعد 1990سے 1994 تک بطور سیکریٹری خارجہ کام کرچکے، سابق صدر پرویز مشرف نے انھیں دسمبر2003 میں توقیر ضیا کی جگہ چیئرمین کرکٹ بورڈ کا عہدہ سونپا تھا،انھوں نے انتظامی اور مالی امور کو سدھارنے کیلیے بہتر انداز میں کام کیا،سفارتکاری کے تجربے اور بھارت میں نواب پٹودی خاندان سے رشتہ داری کی وجہ سے انھوں نے پاک بھارت کرکٹ تعلقات کی بحالی میں بھی کامیابی حاصل کی۔
اس کے بعد بورڈ میں پیسے کی ریل پیل ہوئی لیکن کھلاڑیوں پر قابو رکھنے میں ناکامی اور اوول ٹیسٹ بال ٹمپرنگ تنازع میں غلط حکمت عملی اپنانے پر سخت تنقید نے انھیں گھر کا راستہ دکھا دیا تھا،اسی دور میں یونس خان نے بھی سلیکشن اور دیگر معاملات میں اختلافات پر کرکٹ ٹیم کی قیادت چھوڑدی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں ایک ڈمی کپتان کے طور پر کام نہیں کرنا چاہتا، پانی سر سے گزرتا دیکھ کر ان کا تقرر کرنے والے صدر پرویز مشرف نے ہی نسیم اشرف کو بورڈ کا نیا سربراہ مقرر کردیا تھا، جنھوں نے عہدہ سنبھالتے ہی یونس خان کو ایک بار پھر چیمپئنز ٹرافی کیلیے قیادت سونپ دی۔ اب بڑھتی عمر میں شہریارکو پی سی بی کے بڑھتے مسائل پر قابو پانے کا ٹاسک مل گیا تو کیا نتائج ہونگے اس حوالے سے بہت سے سوالات کرکٹ حلقوں میں گردش کرنے لگے ہیں۔