غزہ میں شہریوں کے قتل عام اور تباہی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، بان کی موننیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ اسرائیل اور غزہ کے درمیان کشیدگی بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتی ہے اور عالمی برادری غزہ کی تعمیر نو آخری بار کرے گی جب کہ غزہ میں شہریوں کے قتل عام اور وسیع پیمانے پر تباہی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے بان کی مون کا کہنا تھا کہ غزہ میں شہریوں کا قتل عام اور وسیع پیمانے پر تباہی نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس پر عالمی برادری کا سر شرم سے جھک گیا ہے، کب تک غزہ اور مغربی کنارے کو تباہ اور پھر تعمیر کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اب اس سلسلے کو یہیں ختم ہوجانا چاہیئے۔
بان کی مون نے کھلے الفاظ میں اسرائیل کو قصوروار ٹھہرانے سے پرہیز کرتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ غزہ میں اس طرح کی صورت حال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی برادری ایک بار پھرغزہ کی تعمیر نو کا کام کرے گی لیکن یہ تعمیر نو آخری بار ہی ہونی چاہئے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ہم ایسی کسی کوشش کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو موجودہ جنگ بندی کومستقل جنگ بندی میں تبدیل کرنے کے ساتھ تصادم کی وجوہات کا بھی سدباب کرسکے۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے غزہ کے اطراف اسرائیلی محاصرے کا خاتمہ، غزہ میں اسلحے کی اسمگلنگ، راہداریوں کا کھولا جانا اور غزہ کو فلسطین کی مشترکہ حکومت کے تحت لانا ضروری ہے۔
واضح رہے کہ غزہ میں 4 ہفتوں تک جاری رہنے والی صیہونی بربریت کے دوران ایک ہزار 886 نہتے فلسطینی شہید اور 9 ہزار سے زائد زخمی ہوگئے تھے جبکہ حماس کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں 67 صیہونی فوجی بھی مارے گئے تھے۔