فلسطین اور اسرائیل دو ریاستی حل کی جانب بڑھیں، جان کیریقاہرہ / لندن: امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ فلسطین اور اسرائیل جنگ بندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل کے لیے 2 ریاستی حل کی جانب بڑھیں۔

بی بی سی کو خصوصی انٹرویو میں جان کیری نے کہاکہ امریکا اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کا مکمل طور پر حامی ہے اور اسرائیل کو پورا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو میزائلوں کے خطرے سے محفوظ بنانے کے لیے اقدام کرے۔ امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک ان حالات میں نہیں رہ سکتا اور امریکا مکمل طور پر اسرائیل کے پیچھے کھڑا ہے۔ جان کیری نے کہاکہ حماس غزہ کو کنٹرول کرتی ہے اور اس نے اسرائیل کے خلاف تباہ کن اور وحشت ناک رویے کا مظاہرہ کیا۔ دوسری طرف اسرائیل اور حماس کے درمیان منگل سے شروع ہونے والی سہ روزہ جنگ بندی برقرار ہے اور اب تک اس کی کوئی خلاف ورزی سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف عالمی عدالت میں جانے کا فیصلہ کر لیا ہے اس سلسلے میں فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی ہالینڈ روانہ ہوگئے ہیں۔ فلسطینی وزیر خارجہ کا انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کا یہ دورہ اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے 3 روزہ جنگ بندی کے معاہدے کے فوری بعد کیا جا رہا ہے وہ عالمی عدالت سے استدعا کریں گے کہ غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرائی جائے۔ غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ 4 ہفتے جاری رہنے والی کشیدگی میں 1800 فلسطینی شہید اور 67 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

ادھر مصری ثالثوں نے قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں حصہ لینے والے فلسطینی اور اسرائیلی وفود کو تجویز دی کہ 72 گھنٹے کی جنگ بندی میں 2 دن کی توسیع کی جائے جبکہ مصری حکام نے فلسطینی مذاکرات کاروں کو اسرائیلی وفد کی تجاویز بھی پیش کی ہیں۔ دریں اثنا بین الاقوامی مڈل ایسٹ امن وفد کے رہنما ٹونی بلیئر اور اقوام متحدہ امن عمل کے نمائندے رابرٹ سیرے نے بھی مصری ثالثوں سے مذاکرات کیے۔ اسرائیلی مظالم کا شکار فلسطینیوں نے3روزہ جنگ بندی پر سکھ کا سانس لیا دوسری طرف غزہ میں چہار سو پھیلے اسرائیلی سفاکیت کے مناظر دیکھ کر عالمی ادارے ریڈ کراس کے سربراہ بھی پریشان ہوگئے اور اسرائیلی مظالم پر اپنے گہرے غم و غصہ کا اظہار کیا۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے الزام لگایاکہ غزہ میں ہلاکتوں کی ذمے دارحماس ہے ہرشہری کی ہلاکت حماس کی وجہ سے ہوئی۔ انھوں نے یہ بھی کہاکہ غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کو اپنا کردارادا کرنا چاہیے، اس کے ساتھ تعاون پر تیارہیں۔ جنگ بندی کی تاحال کوئی خلاف ورزی رپورٹ نہیں ہوئی، امن و سکون کی وجہ سے اب فلسطینیوں کو اپنے پیاروں کی تدفین میں مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑرہا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہاکہ غزہ سمیت پورے فلسطین اور اسرائیل کے مکینوں کی مشکلات ختم ہونی چاہئیں۔ انھوں نے کہاکہ ہم غزہ کی بحالی کے لیے امدادی کام کریں گے لیکن یہ آخری بارہوگا۔ انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ کیاہم مسلسل بنانے اور بگاڑنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے؟