سیکیورٹی خدشات کم کرنے سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ۔ فوٹو: فائل

سیکیورٹی خدشات کم کرنے سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا، جنرل قمر جاوید باجوہ۔ فوٹو: فائل

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ساری ذمہ داری صرف فوج پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں جا سکتا لہذا سب کو ذمہ داری سنبھالنی ہوگی کیونکہ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی۔

راولپنڈی میں انتہا پسندوں کو مسترد کرنے میں نوجوانوں کے کردار سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہمارے مستقبل کی سرمایہ کاری ہیں لیکن دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری قوم اور ریاستی ادارے متحد ہیں جب کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہا پسندی کے خلاف لڑائی کو جاری رکھنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن ردالفساد ایک نئے دور کا آغاز ہے جب کہ سیکیورٹی خدشات کم کرنے سے ترقی کا سفر آگے بڑھے گا جب کہ پاک فوج دنیا کی واحد فورس ہے جس نے دہشت گردی کو شکست دی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: نوجوانوں کو داعش کے نظریات سے بچانا اولین ترجیح ہے، ترجمان پاک فوج

آرمی چیف نے کہا کہ ہم دہشت گردی کی لعنت کے ساتھ بہادری سے لڑ رہے ہیں، پاکستان نے دہشت گردی کے جنگ میں بے مثال قربانیاں دیں جب کہ پاک فوج نے وحشیوں کی صفائی کرکے دنیا بھر کے لیے مثال قائم کردی، ہماری فوج دنیا کی بہترین فوج ہے جس کی قیادت پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو شکست دینے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں، میڈیا اور عوام کے تعاون کو سراہتا  ہوں، آج ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سب سے زیادہ ناز ک دور سے گذر رہے ہیں۔

جنرل قمر باجوہ کا کہنا تھا کہ آپریشن کے ساتھ ساتھ ہمیں دہشت گردی کی وجوہات کا خاتمہ بھی یقینی بنانا ہے، دہشت گردوں کا مقابلہ فوج نے کرنا ہے تو انتہاپسندی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے نے نمٹنا ہے، انتہا پسندی کی طرف راغب ہونے والے نوجوانوں کو اپنی شناخت اور اقدار کا درست علم نہیں، انتہا پسندی کو اکثر مسلم معاشرے کے دین دار طبقے سے جوڑا جاتا ہے، انتہاپسندی کو اسلام کے ساتھ جوڑنا ناانصافی اور خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں انتہا پسندی کی انتہا کے باعث اس کا قومی تشخص تباہ ہو چکا ہے، آر ایس ایس کی ہندواتہ اور فلسطین کی محرومیاں بھی انتہا پسندی کا شاخسانہ ہے، مغربی دارالحکومتوں میں مساجد اور گوردواروں کی بے حرمتی انتہا پسندی کی شکل ہے، قوم پرستوں ، نسل پرستی کے عفریت بھی انتہا پسندی ہی ہے، انتہا پسندی ایک بین الاقوامی رجحان کے طور پرابھر رہی ہے۔

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کا ناقص حکمرانی اور انصاف نہ ہونے کے باعث استحصال ہو رہا ہے، ملک میں دہشت گردی سے جب کوئی عام شہری شہید ہوتا ہے میری آنکھ پرنم ہوتی ہے، میں روز اپنے بچوں کا درد سہتا ہوں، فاٹا یا وزیرستان میں جب بھی کوئی فوجی جوان شہید ہوتا ہے اس کا غم اپنے دل پر محسوس کرتا ہوں،اکیلی فوج کچھ نہیں کرسکتی، فوج بھی اسی معاشرے کا حصہ ہے، کراچی یا بلوچستان میں کچھ ہو تو فوج آئے، ریکوڈیک پر فوج کام کر رہی ہے، انڈس واٹر ٹریٹی پر ہم کام کر رہے ہیں لہذا ساری ذمہ داری صرف آرمی پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں جا سکتا، سب کو ذمہ داری سنبھالنی ہوگی کیونکہ فوج اکیلے کچھ نہیں کرسکتی، تمام اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا جب کہ پوری قوم فوج، پولیس اور اداروں کے ساتھ کھڑی ہو۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں فوج اور اس سے پہلے بالخصوص مجھے بھی ٹارگٹ کیا گیا جب کہ پہلا فیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ آپ نے ایک مقبول لیکن غلط فیصلہ کیا، دوسرا فیصلہ کیا تو بیٹے نے کہا کہ اب آپ نے غیر مقبول مگر درست فیصلہ کیا، نوجوان نسل اسٹریٹ فارورڈ ہے اور ہماری سمت بہتر بنا دے گی۔