مکینوں کو وحشیانہ طریقے سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا، علاقے میں مظاہرے، فورسز کی شیلنگ سے بھی کئی متاثر۔ فوٹو: فائل

مکینوں کو وحشیانہ طریقے سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا، علاقے میں مظاہرے، فورسز کی شیلنگ سے بھی کئی متاثر۔ فوٹو: فائل

سری نگر / واشنگٹن: مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے ضلع شوپیاں میں بدھ کو محاصرے اور تلاشی کی ایک بڑی کارروائی کے دوران لڑکیوں سمیت100سے زائد افراد کو زخمی کردیا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ضلع کے علاقے ہیف شرمال کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کی، قابض اہلکار گھروں میں گھس گئے اور مکینوں کو وحشیانہ طریقے سے مار پیٹ کا نشانہ بنایا جبکہ فورسز نے گھریلو اشیاکی توڑ پھوڑبھی کی، مارپیٹ کے نتیجے میں50 سے زائد خواتین، بچوں سمیت100سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

عینی شاہدین کے مطابق بھارتی فورسزکے اہلکارو ں نے اس دوران معراج احمد گنائی اور خوشحال حامد نامی 2 نوجوانوں کو گرفتار کر لیا، لوگوں نے سڑکوں پر آکر فوجی آپریشن کے خلاف زبردست مظاہرے کیے۔ بھارتی فورسزکے اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلیے پیلٹ فائرنگ کی جس سے مزید کئی افراد زخمی ہوگئے۔ پیلٹ فائرنگ سے زخمی 20افرادکو پلوامہ، اسلام آباد اور زینہ پورہ کے اسپتالوں میں داخل کیاگیاجبکہ ایک شدید زخمی کو سری نگر کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا۔

دریں اثنا سری نگر اور حاجن کے علاقوں میں طلبا نے اپنے ساتھی طلبا کی گرفتاری کے خلاف پوری وادی میں زبردست مظاہرے کیے، طلبا نے بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے، پٹن میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے احتجاج کرنیوالے طلبا کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جس سے20 سے زائد طلبا زخمی ہو گئے۔

ادھر میرواعظ عمرفاروق کی زیرقیادت حریت فورم نے معروف آزادی پسند رہنماؤں میر واعظ مولوی محمد فاروق، خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلیے ہفتہ شہادت کے سلسلے میں بدھ کو سرے نگر میں سیمینار کا اہتمام کیا، کٹھ پتلی انتظامیہ نے سیمینار میں خطاب سے روکنے کیلیے میر واعظ عمرفاروق، مختار احمد وازہ اور شاہدالاسلام کو گھروں میں نظربند کردیا۔

سیمینار کے مقررین نے افسوس کا اظہار کیاکہ بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کیلیے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی جیسی فسطائی طاقتوں سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے کیونکہ وہ صرف ایک زبان جانتے ہیں کہ کس طرح جائز اختلافی آوازوں کا گلا گھونٹا جائے۔ مقررین میں مزاحمتی رہنما ؤں یاسین ملک، پروفیسر عبدالغنی بٹودیگر شامل تھے۔

سید علی گیلانی، میرواعظ فاروق اور یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کٹھ پتلی انتظامیہ کی طرف سے غیرقانونی طور پر نظربنددختران ملت کی علیل چیئر پرسن آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھی فہمیدہ صوفی پر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے نفاذ کیخلاف کل جمعہ کو پرامن احتجاج کی کال دی ہے۔

علاوہ ازیں گزشتہ روز واشنگٹن میں ڈاکٹر غلام نبی فائی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں پاکستانی امریکن کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم و پی ٹی آئی کشمیر کے صدربیرسٹرسلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ اتوار21 مئی کوامریکاکے دارالحکومت واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے سامنے کشمیری زبردست کینڈل لائٹ مظاہرہ کریں گے اور اس میں امریکا بھر سے پاکستانی و کشمیری شام 7 بجے سے رات9 بجے تک ہاتھوں میں موم بتیاں اٹھا کر مظاہرہ کریںگے تاکہ امریکا سمیت پوری دنیا مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم کے متعلق جان سکے۔ وہ بدھ کو یہاں واشنگٹن میں ڈاکٹر غلام نبی فائی کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں پاکستانی امریکن کانگریس کے اجلاس سے بطور مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے ۔