ٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ ہمیں نیشنل پارک میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم بنانے میں دلچسپی ہے۔ شکر پڑیاں اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو واپس کر دیں گے۔

سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے سابق بیورو کریٹ روئیداد خان نے شکر پڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کےخلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ شکرپڑیاں میں کرکٹ اسٹیڈیم اور فائیو اسٹار ہوٹل بننے سے آلودگی میں اضافہ ہوگا، عدالت نے 2 مئی کی سماعت میں اسٹیڈیم کی تعمیر اور درخت کاٹنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں نے آج دوبارہ سماعت کے دوران نجم سیٹھی نے عدالت کو بتایا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر کا منصوبہ 2008 میں شروع ہوا، ہم نیشنل پارک میں نہیں بلکہ اسلام آباد میں کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ سی ڈی اے کی ذمے داری تھی کہ وہ نیشنل پارک میں جگہ ہی نہ دیتے، اگر اسلام آباد اسٹیڈیم نیشنل پارک کا حصہ ثابت ہوا تو جگہ واپس کر دیں گے۔

عدالت نے کہا کہ سی ڈی اے اسٹیڈیم سے اس حوالے سے وضاحت طلب کر لی ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیشنل پارک میں متاثرہ سائٹ کو اصل شکل میں بحال کرائیں گے، ہم کھیلوں کو سپورٹ کرتے ہیں اور اسلام آباد کرکٹ اسٹیڈیم کے لیے جگہ لینے میں پی سی بی کی مدد کریں گے۔ عدالت نے تعمیر روکنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے سماعت 2 ہفتوں تک کے لیے ملتوی کر دی۔