لاہور: بھارتی شہر امرتسر کے ٹرانزٹ کیمپ میں قید پاکستانی خاتون نسرین اختر کو رہائی کے لیے بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے اجازت نامے کا انتظار ہے۔

امرتسر سے ٹیلی فون پربات کرتے ہوئے پاکستانی خاتون کی وکیل نوجوت کور نے بتایا کہ 56 سالہ نسرین اختر کو 2006 میں جعلی کرنسی اور منشیات کے مقدمے میں 11 سال 10 ماہ کی سزاہوئی تھی جو 9 نومبر2016 میں مکمل ہوگئی تھی، جس کے بعد نسرین اخترکوجیل سے ٹرانزٹ کیمپ میں منتقل کردیا گیا جہاں اب وہ اپنے وطن واپسی کی منتظرہے۔

بھارتی وکیل نے بتایا کہ نسرین اختر پر دو لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا تھا، وہ جرمانہ بھی اداکیا جاچکا ہے جبکہ بھارت کی انٹیلی جنس بیورو سمیت دیگر تحقیقاتی ادارے نسرین اخترکی رہائی کی اجازت دے چکے ہیں تاہم اب ان کی رہائی کی فائل بھارتی پنجاب میں وزارت داخلہ کے پاس پڑی ہے جیسے ہی اجازت ملے گی نسرین اختر کو رہا کردیا جائیگا، نجوت کور کے مطابق نسرین اخترکو شوگر اور یورک ایسڈکا مرض ہے اسے وہ ذاتی طور پر باقاعدگی سے دوائی مہیا کررہی ہیں۔