277673-Celeberaton-1407474422-101-640x480غزہ / قاہرہ / واشنگٹن: غزہ میں بڑے پیمانے پرفلسطینیوں کے قتل عام کے بعد 3روزہ جنگ بندی آج(جمعے کی صبح)سے ختم ہورہی ہے تاہم ایک سینئر اسرائیلی اہلکار نے بتایا ہے کہ اسرائیل 3روزہ جنگ بندی کی شرائط پر جنگ بندی میں توسیع کرنے کے لیے تیار ہے۔
البتہ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق حماس نے جنگ بندی میں توسیع کے معاہدے سے انکار کیا ہے۔ فلسطینی گروہوں کا مطالبہ ہے کہ جنگ بندی کے لیے 7برسوں سے جاری غزہ کا محاصرہ ختم کرنا ہوگا۔ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات میں فلسطینی گروپ حماس کی نمائندگی کرنے والے موسیٰ ابو مرزوق نے ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 4روزہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے پہلی بار پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کشیدگی میں عام شہریوں کی ہلاکت کی ذمے دار حماس ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ میں سیکڑوں فلسطینیوں نے اسرائیل کے خلاف فتح کا جشن منایا ہے۔ فلسطینی شہری ریلی میں ’’مزاحمت جاری رہے گی‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔ فلسطینیوں نے کہا کہ ہم نے جنگ جیت لی ہے اور اللہ کی مدد سے سیاسی جنگ بھی جیت لیں گے۔ ریلی کی قیادت حماس کے رکن پارلیمنٹ مشیرالمصری کر رہے تھے۔ جنگ بندی کے باعث غزہ میں معمول کی زندگی لوٹ آئی۔ بینک اور بازار کھل گئے۔ ادھر امریکی صدراوباما نے کہا ہے کہ امریکا کی کوشش ہے جنگ بندی برقرار رہے تاکہ غزہ میں تعمیرنو کاکام شروع ہو سکے۔ واشنگٹن میں جاری امریکا، افریقا سربراہی اجلاس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ غزہ کے لوگ بیرونی دنیا سے کٹ کرزندگی نہیں گزار سکتے۔ حماس کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں۔ اسے امریکا دہشت گرد سمجھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں بسنے والے عام فلسطینیوں کو سہولتوں کے حصول اور ترقی کے مواقع تک رسائی کا حق حاصل ہے۔ غزہ کے بحران کا ایک ایسا پائیدار حل تلاش کرنا ہوگا جو نہ صرف اسرائیل کی سلامتی کا ضامن ہو بلکہ اس کے نتیجے میں غزہ کے لوگوں کو اپنی مشکلات کے حل کی امید بھی نظر آئے۔