آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی حامی بھرلیدبئی / ممبئ: جیمز اینڈرسن کے سزا سے بچ نکلنے پر نالاں بھارتی کرکٹ بورڈ کے دباؤنے کام کردکھایا، آئی سی سی نے ضابطہ اخلاق پر نظر ثانی کی حامی بھرلی۔
چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہاکہ جوڈیشنل کمشنر گورڈن لیوس کی سفارشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قواعد و ضوابط کا از سر نو جائزہ لیں گے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت نے ٹرینٹ برج ٹیسٹ کے دوران جیمز اینڈرسن پر رویندرا جڈیجا کو گالیاں اور دھکے دینے کا الزام عائد کیا تھا،آئی سی سی کے جوڈیشنل کمشنر گورڈن لیوس نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر فاسٹ بولر کو بری کردیا،بی سی سی آئی نے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کونسل کوفیصلے کیخلاف اپیل کیلیے کہا تھا، یہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر بورڈکے سیکریٹری سنجے پٹیل نے کوڈ آف کنڈکٹ میں تبدیلیوں کا مطالبہ کر دیا، انھوں نے میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ جیمز اینڈرسن کے سزا سے بچ نکلنے پر متاثرہ فریق ہونے کے باوجود ہم خود اپیل کا حق ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ آئی سی سی سے درخواست کرنا پڑی، کوڈ آف کنڈکٹ میں خامیاں موجود ہیں جنھیں ختم کرنے کیلیے اقدامات کرنے چاہیئں۔
انھوں نے کہا کہ بی سی سی آئی کے متعلقہ عہدیداروں اور وکلاکو قوائد و ضوابط پر عمل درآمد کے پورے طریقہ کار کا تنقیدی جائزہ لینے کی ہدایت کردی ہے،کام مکمل کرنے کے بعد آئی سی سی کو تبدیلیوں کے حوالے سے تجاویز بھجوا دیںگے۔ سنجے پٹیل نے کہا کہ آئی سی سی سے ویڈیو فوٹیج میسر نہ ہونے کی بھی شکایت کرتے ہوئے زور دیا جائے گا کہ آئندہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب بھارتی بورڈ کے دباؤ نے کام کردکھایا،اپیل سے انکار کرنے والی آئی سی سی نے اپنے کوڈ آف کنڈکٹ پر نظرثانی کی حامی بھرلی ہے، چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے اس حوالے سے کہا کہ جوڈیشنل کمشنر نے اپنے فیصلے میں لکھا تھا کہ ڈسپلن کے حوالے سے قواعد وضوابط میں کئی ایسی خامیاں اور غیر واضح چیزیں موجود ہیں ۔
جن کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کا عمل مکمل نہیں ہوتا، مستقبل میں بہتر فیصلوں کیلیے طریقہ کار کا فوری طور پر از سر نو جائزہ لیا جانا اشد ضروری ہے۔گورڈن لیوس کی سفارشات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوڈ آف کنڈکٹ پر نظر ثانی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ٹرینٹ بریج ٹیسٹ کی نوعیت کا کوئی تنازع ہو تو اس حوالے سے بہتر فیصلہ کیا جاسکے۔