لاہور: اداکارہ وماڈل نمرہ خان نے کہا ہے کہ فلموں میں حقیقت کے رنگ بھرنے کیلیے جس طرح کہانی اورکردارکا مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے اسی طرح اگران کرداروں کویادگاربنانے کیلیے باقاعدہ ورکشاپس کی جائیں تواس سے جہاں سیکھنے کا موقع ملتا ہے،وہیں کام میں نکھاربھی آتا ہے دنیا بھرکی ترقی یافتہ فلم انڈسٹریوں میں بننے والی فلموں میں ایسا ہی کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں شائقین کے دل ودماغ پراثرچھوڑ جاتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ نمرہ خان نے کہا کہ بلاشبہ پاکستان میں فلمسازی کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن ہے اوراب نوجوان فلم میکرز کے ساتھ ساتھ سینئرفلم میکرز بھی جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے ایسے موضوعات پرفلمیں بنا رہے ہیں، جوہراعتبار سے شائقین کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگرکسی بھی نئی فلم کی شوٹنگ سے قبل اگرچند روز کی ایک ایسی ورکشاپ ترتیب دے دی جائے جس میں فلم کے رائٹر، ڈائریکٹر، کیمرہ اورتکنیکی عملے کے علاوہ کاسٹ میں شامل فنکار بھی شریک ہوں تواس کے بہترین نتائج سامنے آئیںگے۔

ایک توفلم کی کہانی اوراپنے کردارکوسمجھنے کا موقع ملے گا اوراسی طرح صلاح مشورے کے ساتھ کچھ بہترہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ہم شوٹنگ کیلیے سیٹ پرپہنچتے ہیں تواس پروجیکٹ میں شامل بہت سے لوگوں سے ہماری کوئی سلام دعا نہیں ہوتی اورپھر اجنبیت کا احساس ہونے لگتا ہے۔ جب تک ہم ایک دوسرے کوسمجھتے نہیں ہیں، تب تک اچھا کام نہیں ہوسکتا۔