عراق میں داعش جنگجوؤں نے ایک قصبے اور ڈیم پر قبضہ کرکے پرچم لہرادیےبغداد: عراق میں داعش کے جنگجووں نے کرد فورسز سے جھڑپ کے بعد ایک قصبے سینجر اور ملک کے سب سے بڑے ڈیم پر قبضہ کرکے اپنے سیاہ پرچم لہرا دیے ہیں جب کہ پہلے سے بے گھر 2 لاکھ افراد دوبارہ سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوگئے۔
جنگجووں نے قصبے میں سرکاری عمارتوں پر بھی اپنے سیاہ پرچم لہرا دیے ہیں، یہ قصبہ شامی سرحد اور عراقی شہر موصل کے درمیان ہے، علاقے میں بے گھر ہونے والے افراد کے لیے خوراک اور دوائوں کی قلت ہوگئی ہے۔ باغیوں نے قصبے پر قبضے کے بعد انٹرنیٹ پر سینجر کی گلیوں میں مسلح جنگجوئوں کو گشت کرتے ہوئے دکھایا ہے جس سے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ داعش کے جنگجوئوں نے اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے عراق کے سب سے بڑے ڈیم پر بھی قبضہ کر لیا۔
جنگجوؤں نے ڈیم پر قبضے کو اہم کامیابی قرار دیا ہے کیونکہ وہ اب عراق کے بڑے شہروں کو ڈبونے کی بھی دھمکی دے سکتے ہیں۔ دولت اسلامی نے شامی سرحد کے ساتھ واقع عراق کے دیہات کے مکینوں سے کہا کہ وہ اپنے گھربار چھوڑ کر چلے جائیں۔ ہفتے کو باغیوں نے شمال میں زمر نامی علاقے اور اس سے ملحقہ تیل کے کنووں پر قبضہ کر لیا تھا جسے کرد فورسز کی پہلی بڑی شکست قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے مطابق سینجر قصبے پر باغیوں کے قبضے کے بعد 2 لاکھ افراد دوبارہ بے گھر ہوگئے۔ سینجر میں زیادہ تر ایسے افراد آباد تھے جو تل عفر شہر سے لڑائی کے باعث بے گھر ہونے کے بعدیہاں منتقل ہوئے تھے اب ان کی زندگی دوبارہ اجیرن ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق 2 لاکھ بے گھر افراد کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں، ان بے گھر افراد کو دوائوں، خوراک اور صاف پانی کی فوری ضرورت ہے۔