جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان دوسری ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور امریکا سے ہونے والے مذاکرات میں تعطل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے سربراہان کی دوسری ملاقات کسی سرپرائز سے کم نہ تھی، یہ ملاقات طے شدہ نہیں تھی بلکہ اچانک کی گئی جسے نہایت خفیہ بھی رکھا گیا جب کے اس سے قبل پہلی ملاقات کے موقع پر میڈیا بھی موجود تھا۔ اس اچانک ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے کچھ وقت ساتھ گزارا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
جنوبی کوریا کے صدارتی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’’ اچانک ملاقات ‘‘ شمالی کوریا کے غیر فوجی علاقے میں ہوئی جہاں دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص شمالی کوریا کے سربراہ کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔

واضح رہے کہ 1953ء کے بعد شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات رواں برس گزشتہ ماہ ہی ہوئی تھی۔ اس تاریخی ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے سربراہ کی امریکی صدر سے 12 جون کو ملاقات طے تھی تاہم امریکا ملاقات سے قبل کچھ شرائط پر عمل درآمد کرانا چاہتا تھا جس کے باعث ملاقات تعطل کا شکار ہے۔