لاہور:  ملک کی پندرھویں قومی اسمبلی کا اجلاس سوموار کے روز اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں 2018ء کے انتخابات میں منتخب ہونے والے ارکان اسمبلی نے اپنی اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھایا۔

آج اسپیکر اورڈپٹی اسپیکر کا انتخاب عمل میں آئے گا اور پھر 17  اگست کو وزیر اعظم پاکستان کا انتخاب ہوگا۔ یوں اسمبلی کی تشکیل کا ایک مرحلہ مکمل ہو جائے گا جس کے بعد اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا جائے گا۔ عام انتخابات کے انعقاد اور نتائج کے اعلانات کے بعد سے اسمبلی کے اجلاس کے آغاز تک کے عرصہ کے دوران ملک کی سیاسی جماعتوں کے درمیان زبردست قسم کی کھینچا تانی اور امیدواروں کو اپنے اپنے ’’ دام فریب ‘‘ میں لانے ( بلکہ پھانسنے ) کے مظاہر دیکھنے میں آئے۔ 70ء  اور 80ء  کی  دہائی  میں جس طرح بھٹو اور اینٹی بھٹو عنصر ہماری قومی سیاست میں در آیا تھا اور جس نے سیاست کو دو واضح دھڑوں میں تقسیم کردیا تھا، اسی طرح آج ایک عرصہ کے بعد ہماری قومی سیاست میں ’’ عمران خان اور اینٹی عمران خان ‘‘ عنصر دیکھا جا رہا ہے۔

ایک طرف اگر عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مسلم لیگ ق، بلوچستان عوامی پارٹی، ایم کیوایم اور یک رکنی جماعت عوامی مسلم لیگ وغیرہ اس کی اتحاد ی کے طور پر موجود ہیں تو دوسری طرف مسلم لیگ ن ، پیپلزپارٹی ، متحدہ مجلس عمل ، اے این پی، چند قوم پرست جماعتیں اور شیرپاؤ کی جماعت عمران خان کے مخالف کیمپ میں کھڑی ہیں۔ اینٹی عمران خان جماعتوں میں زیادہ تر وہی جماعتیں ہیں جنہیں انتخابات میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور اس ہار ہی نے ان جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کردیا ہے۔ حالانکہ انتخابات کے دوران یہی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ء تھیں۔ چونکہ پاکستان کی سیاست میں اصولوں اور اقدار کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا اس لیے ایسا اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک وقت میں سخت حریف بھی اگلے لمحے میں حلیف بن جاتے ہیں۔

 

اس میں خرابی یا نقصان تو ان بیچارے کارکنوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو اپنی سادگی اور اخلاص کے باعث اپنی قیادتوں کی پالیسیوں اور ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ بسا اوقات ان میں لڑائی مارکٹائی حتیٰ کہ قتل وغارت تک کی نوبت آجاتی ہے اور کبھی کبھی یہ لڑائیاں خاندانی رقابتوں میں تبدیل ہوجاتی ہیں ۔لیکن ان کی قیادتیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنے مخالفین کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے زنجیر بنا کر اس طرح کھڑے ہوتی ہیں جیسے ان میں کوئی فاصلہ یا اختلاف تھا ہی نہیں۔ایسی صورت میں ان کارکنوں کے دلوں پر کیا بیتتی ہے اس کا اندازہ وہی کر سکتا ہے جو ان جماعتوں کا ڈائی ہارڈ ورکر ہوتا ہے۔کیونکہ سیاسی کارکنوں کے درمیان سیاسی رنجشیں ان کی اپنی اپنی جماعت کے ساتھ نظریاتی وابستگی کا منطقی نتیجہ ہوتی ہیں اس لیے وہ آپس میں فوری طور پر نہیں مل پاتے اور یوں اوپر کی سطح پر تو متحارب اور مخالف فریق اپنی ضرورت کے مطابق حلیف بن جاتے ہیں لیکن کارکنوں میں یہ فاصلہ برقرار رہتا ہے اور یہ خلیج فوری طور پر پاٹی بھی نہیں جا سکتی یہی چیز سیاسی قیادتوں اور کارکنوں کے درمیان بالآخر غلط فہمیوں کو جنم دیتی ہے اور نتیجۃ پارٹی کے نظم کو سخت نقصان پہنچتاہے۔

اس وقت عمران خان مخالف گروپ میں بہت سی جماعتیں ایسی ہیں جو الیکشن میں ایک دوسرے کے خلاف سخت الزامات لگاتی رہیں اوراپنی انتخابی مہم اسی مخالفت کی بنیاد پر ہی چلا کر ان کے جذبات بھڑکاتی رہیں۔ مثال کے طور پر مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے درمیان الیکشن میں سخت مخالفت کی فضا دیکھنے میں آئی۔ پیپلز پارٹی کی قیادت ( جس میں آصف علی زرداری اور بلاول زرداری خاص طور پر قابل ذکر ہیں) نے شریف برادران کے اوپر سنگین الزامات لگاتے ہوئے قراردیا کہ ان کے ساتھ کبھی بھی ہاتھ نہیں ملائیں گے  لیکن گزشتہ دنوں میں ان جماعتوں کی قیادتوں نے نہ صرف ہاتھ ملایا بلکہ بغل گیر بھی ہوئے اسی طرح ایم ایم اے کی انتخابی مہم کا ہدف تحریک انصاف کے ساتھ ساتھ ن لیگ اور پیپلزپارٹی بھی رہی ہیں چنانچہ ایم ایم اے میں شامل جماعتیں ووٹروں سے انہی جماعتوں کی مخالفت کی بنیاد پر ووٹ مانگتی رہیں۔ لیکن انتخابات میں شکست نے انہیں بھی انہی ’’ اسلام اور پاکستان دشمن جماعتوں ‘‘ کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر مجبور کردیا ہے۔ وہ اخلاقیات جس کی دعویدار ایم ایم اے کی قیادت تھی وہ اب زمیں بوس ہوچکی ہے۔

ان تمام شکست خوردہ جماعتوں نے اب الیکشن نتائج کے خلاف گرینڈ اپوزیشن الائنس تشکیل دے کر بھرپور تحریک شروع کر رکھی ہے۔ پہلے اسمبلیوں سے باہر سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے کرنے کا پروگرام بنایا گیا لیکن جب پیپلزپارٹی نے اس کی مخالفت کی تو پھر پارلیمان میں احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا اظہار اسمبلی کے آج اور کل کے اجلاسوں میں یقینی طور پر دیکھنے میں آئے گا۔ پیپلزپارٹی کی طرف سے البتہ یہ مثبت رویہ سامنے آیا ہے کہ اس نے سسٹم کو ڈی ریل کرنے کے کسی پروگرام کا خود کو حصہ بنانے سے معذرت کرلی ہے۔ وہ احتجاجی مظاہرے اور احتجاج ضرور کرنا چاہتی ہے لیکن اس انداز سے کہ جمہوریت یا سسٹم کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

چنانچہ پیپلزپارٹی کے اس رویے سے اس بات کا امکان نظرآرہا ہے کہ گرینڈ اپوزیشن کا احتجاج عمران خان کی حکومت کو تو شائد چلنے سے روکنے کے لیے آخری حد تک جا سکتا ہے ( کہ اس الائنس میں شامل کوئی جماعت بھی عمران خان کی حکومت کااستحکام نہیں چاہتی ) لیکن اس کے باوجود موجودہ صورت حال میں ان کے لیے کسی قسم کی سیاسی مہم جوئی کے لیے سڑکوں پر آنے اور دھرنے وغیرہ کا آپشن استعمال کرنا مشکل ہو گا۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سردست تو عوام کا موڈ ایسا دکھائی ہی نہیں دیتا، پھر اس پر طرہ یہ کہ اپوزیشن ہی کی کچھ جماعتوں نے قومی اداروں کے خلاف جو محاذ آرائی اختیار کر رکھی ہے اسے بھی عوام میں پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا رہا۔ اور یہ بات طے ہے کہ عوامی تائید و حمایت کے بغیر کسی بھی جماعت ( یا اتحاد ) کے لیے اپنے ایجنڈے میں کامیابی کا حصول ممکن نہیں۔

تحریک انصاف کی طرف سے ایک ڈویلپمنٹ جو حال ہی میں دکھائی دی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کا عندیہ دیا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے پیپلزپارٹی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں سے رابطہ کیا ہے۔ چنانچہ ان حالات میں اپوزیشن کو کامیابی اب صرف اسی صورت میں مل سکتی ہے اگر نئی حکومت کسی فاؤل پلے کا مظاہرہ کرتی ہے یا اس کے کھلاڑی کسی کمزور پچ پر ہٹ لگانے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی صورت میں یقینی طور پر اپوزیشن کی گرفت میں آسکتے ہیں جوکسی بھی فرینڈلی اپوزیشن کے مقابلے میں اس وقت مضبوط ترین اپوزیشن تصور کی جا رہی ہے ۔