کراچی:  ’’تبدیلی‘‘ آنے سے پی ایس ایل کے سات پردوں میں چھپے رازسامنے آنے لگے۔

آڈیٹرجنرل آف پاکستان کی جانب سے کرائے گئے پی ایس ایل ون اور ٹو کے آڈٹ میں سنگین نوعیت کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں،ذرائع نے نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ کئی اہم معاہدے بغیر ٹینڈر جاری کیے فائنل ہوئے، اس میں  مبینہ طورپر من پسند افراد کو نوازا گیا، اگر اشتہار جاری ہوتا تو پی سی بی کو کئی گنا زیادہ رقم حاصل ہو سکتی تھی۔

پروڈکشن رائٹس اور ٹکٹنگ کے معاہدوں پر بھی اعتراض سامنے آیا، ملازمین کی قابلیت سے زیادہ تنخواہوں اور بونسز وغیرہ پر اعتراضات اٹھے، اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل (ر) اعظم کے آرمی سے این او سی نہ لینے پر اعتراض کیا گیا،افتتاحی تقاریب پر بھاری رقم خرچ کرنے پر بھی سوال اٹھا۔اسی طرح نائلہ بھٹی کو پروجیکٹ منیجر اور عثمان واہلہ کو ہیڈ آف کرکٹ آپریشنز مقرر کرنے پر اعتراضات سامنے آئے۔

 

اس حوالے سے بھی کہا گیا کہ ان سے زیادہ قابل لوگ موجود تھے پھر بھی انھیں ہی کیوں اہم ذمہ داری سونپی گئی،آفیشلز کے دوروں اور اخراجات وغیرہ پر بھی اعتراض سامنے آیا، بعض ملازمین کی تنخواہوں اور ڈبل بونس پر بھی سوال اٹھے، اینٹی کرپشن یونٹ کے کرنل (ر) اعظم کے آرمی سے این او سی نہ لینے پر اعتراض کیا گیا،افتتاحی تقریب پر بھاری رقم خرچ کرنے پر بھی سوال اٹھا۔

ذرائع  کے مطابق پہلے ایڈیشن کی آڈٹ رپورٹ وزارت بین الصوبائی  رابطہ کو بھی ارسال کی گئی ہے، نجم سیٹھی نے اپنے استعفے سے 2 روز قبل اعتراضات کا جواب آڈیٹر جنرل کو بھیجا تھا،اب اس حوالے سے پی سی بی، آئی پی سی اور اے جی پی کے حکام مل بیٹھ کر بات کریں گے۔ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ نئی حکومت آڈٹ رپورٹ کو پبلک کرنے کا سوچ رہی ہے تاکہ پی ایس ایل کے حوالے سے حقائق سامنے آ سکیں، چونکہ یہ آڈٹ پہلے ہی ہو چکا تھا اس لیے ’’سیاسی انتقام‘‘ کا نشانہ بنانے والی بات بھی لاگو نہیں ہو سکے گی۔

یاد رہے کہ نجم سیٹھی کی قریبی شخصیت نائلہ بھٹی نے طوفانی رفتار سے پی سی بی میں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے ڈائریکٹر  مارکیٹنگ کی سیٹ حاصل کر لی تھی، گوکہ اب تک باضابطہ اعلان تو نہیں ہوا مگر ذرائع بتاتے ہیں  کہ سابق چیئرمین کے استعفے والے دن وہ بھی دفتر میں ساتھیوں سے الوداعی ملاقات کر چکی ہیں۔ ان کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ بی اے پاس ہیں مگر خلاف قوائد پی سی بی میں ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔

نجم سیٹھی پی ایس ایل کا آڈٹ نہ کرانے پر خاصی تنقید کی زد میں رہے تھے، کچھ عرصے قبل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے تشویش ظاہر کرتے ہوئے پی سی بی سے کہا گیا تھا کہ وہ اے جی پی سے آڈٹ کرائے تاکہ آمدنی اور اخراجات کے حوالے سے حقائق سامنے آ سکیں،اس سے قبل بورڈ نے کمیٹی کو دو صفحات کی رپورٹ پیش کی تھی۔ دوسری جانب آڈٹ رپورٹ پر تبصرے کیلیے کسی پی سی بی آفیشل سے رابطے کی کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔