پاکپتن:  خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو ناکے پر روکنے اور معافی نہ مانگنے کی پاداش میں ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا گیا۔

خاتون اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا کو گارڈز سمیت روکنا پاکپتن پولیس کے سربراہ کو مہنگا پڑگیا، آئی جی پنجاب نے ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل کا تبادلہ کردیا۔

خاور مانیکا کو 23 اگست کو  گارڈز سمیت پولیس نے ناکے پر روکا لیکن خاور مانیکا نے گاڑی نہ روکی اور آگے نکل گئے، جس پر پولیس اہلکاروں نے پیچھا کرکے ان کی گاڑی روکی تو پولیس اہلکاروں اور خاور مانیکا کے گارڈز کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔

گاڑی کا پیچھا کرنے اور گارڈز سے تلخ کلامی پر خاور مانیکا ناراض ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق خاتون اول بشریٰ عمران خان  کی مداخلت پر آر پی او اور ڈی پی او کو وزیر اعلٰی ہاؤس طلب کیا گیا اور خاور مانیکا سے ان کے ڈیرے پر جاکر معافی مانگنے کا کہا گیا۔

ڈی پی او پاکپتن رضوان گوندل نے معذرت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب غلطی نہیں کی تو معذرت کیسی؟ رضوان گوندل نے وزیراعلٰی پنجاب عثمان بزدار کو بھی اپنے اسی موقف سے آگاہ کیا تاہم  سارے معاملے کے بعد ڈی پی او پاکتن کا تبادلہ کر دیا گیا۔

اس حوالے سے پنجاب پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب کلیم امام نے ڈی پی او پاکپتن کے بارے میں خفیہ انکوائری کرائی وہ غلط بیانی کے مرتکب پائے گئے جس پر انہیں او ایس ڈی بنادیا گیا اس ضمن میں کسی دباؤ کے تحت یہ قدم نہیں اٹھایا۔