تہران:  ایرانی پارلیمنٹ نے ملکی وزیر اقتصادیات مسعود کرباسیان کا مواخذہ کرتے ہوئے انھیں ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

ایران میں شدید ہوتے ہوئے اقتصادی بحران کے دور میں یہ برطرفی صدر روحانی کی حکومت کیلیے ایک اور بڑا دھچکا ہے۔ مسعود کرباسیان کی ملکی پارلیمان کی طرف سے ان کے عہدے سے برطرفی ایک ایسے وقت پر عمل میں آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں کی بحالی کے بعد ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں واضح کمی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مسعود کرباسیان کا اتوار کے روز مواخذہ ایرانی پارلیمان کا حالیہ دنوں میں ایسا دوسرا اقدام ہے۔

جس کے نتیجے میں اب تک صدر حسن روحانی کی کابینہ کے 2 وزرا کو ان کے عہدوں سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ دوسری طرف کرباسیان کی برطرفی اس امر کا ثبوت بھی ہے کہ نئی امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی معیشت کو بہت مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، حالانکہ ایرانی مذہبی اور سیاسی رہنما ایسے اثرات کی شروع سے ہی نفی کرتے آئے ہیں۔ کرباسیان کے مواخذے کے لیے تہران کی قومی پارلیمان میں ہونے والی رائے شماری میں 137 ارکان نے وزیر اقتصادیات کے ان کے عہدے سے برطرف کیے جانے کے حق میں رائے دی جبکہ 121 ارکان نے اس قرارداد کی مخالفت کی۔ 2 ارکان پارلیمان نے رائے شماری میں حصہ نہ لیا اور اپنے رائے محفوظ رکھی۔