کراچی:  ایشین گیمز میں پاکستان ہاکی ٹیم کی ناقص کارکردگی اور چوتھی پوزیشن پانے کے بعد خود پی ایچ ایف میں بغاوت پھوٹ پڑی۔

نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اولمپئن نوید عالم نے کہا کہ سیمی فائنل میں قومی ہاکی ایک آسان حریف جاپان کے خلاف کامیابی ہوجاتی تو گولڈ میڈل پانا ممکن تھا لیکن ایک گول کی شکست کے سبب نادر موقع ہاتھ سے نکل گیا، انھوں نے کہا کہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ہماری ٹیم میں ایک گول کا خسارہ کم کرنے کی بھی قوت نہ تھی، اب ان پر مزید کتنا اعتماد کیا جائے۔

ایشین گیمز کے مقابلے دیکھنے کے لیے جانے والے پی ایچ ایف کے سابق صدر اولمپئن اختر رسول کی طرف سے پاکستان ہاکی ٹیم کی کارکردگی کو بہتر قرار دینے پر اولمپئن نوید عالم نے کہا کہ خدارا کچھ رحم کریں، پاکستان اور ہاکی کے لیے سوچیں، سابق قومی کپتان کو پی ایچ ایف کی شان میں قصیدے پڑھنے کی بجائے سچ گوئی کے ساتھ حقیقیت بیان کرنی چاہیے، سچ یہ ہے کہ ہماری ٹیم بہت برا کھیلی، ٹیم منیجر نے جب شکست کا ملبہ امپائر پر ڈال دیا تو قسمت کی خرابی کہاں سے آگئی۔

 

ایک سوال کے جواب میں اولمپئن نوید عالم نے کہا کہ پاکستان کو اصولی طورپر ایشین گیمز میں پہلی پوزیشن حاصل کرنی چاہیے تھی لیکن برانز میڈل کے لیے ہونے والے میچ میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد ہم نے میڈل اسٹینڈ تک بھی پہنچنے کا موقع گنوادیا اور محض چوتھی پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا، انھوں نے کہا کہ کس قدر ذلت کی بات ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم کا کپتان انتہائی ڈھٹائی کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ ہم اچھا کھیلے لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا، اللہ کا خوف کریں، ایسا کہنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کو گھر چلے جانا چاہیے۔

پی ایچ ایف کی ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن اولمپئن نوید عالم نے مزید کہا کہ یہ امر پوری قوم کے لیے باعث شرم ہے کہ بھارتی کھلاڑی سے اپنے حق میں بات کراکے ویڈیو جاری کرائی گئی، ایسا کرنے والے عناصر کو سامنے لایا جائے جو ملک وقوم کی تذلیل کا سبب بنے۔

بنگلہ دیشن ہاکی ٹیم کے کوچ رہنے والے اولمپئن نوید عالم نے کہاکہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ پاکستان ہاکی ٹیم میں گروپنگ ہوچکی ہے اور کھلاڑی واضح طور پر 2 حصوں میں بٹ گئے ہیں جن کی بعض افراد کی جانب سے پشت پناہی بھی کی جارہی ہے، پی ایچ ایف کے صدر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے۔

ایک سوال پر فیڈریشن کے ڈائریکٹر ڈومیسٹک ہاکی نے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ 3 برسوں کے دوران ڈومیسٹک ہاکی اسٹرکچرکوبری طرح نظرانداز کرکے اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی، نوید عالم نے کہا کہ میرا یقین ہے کہ پاکستان میں ہاکی کا بہت بڑا ٹیلنٹ موجود ہے، مناسب منصوبہ بندی کرنے کے بعد ملک بھر میں اوپن ٹرائلزکرکے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لاکر ان کی صلاحیتوں کوجلا بخشی جائے، اسی صورت پاکستان انٹرنیشنل ہاکی میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر ایک پوزیشن کے لیے 10،10 کھلاڑی تیار کیے جائیں لیکن اس وقت حالات کا تقاضا ہے کہ قومی ہاکی کوتباہی سے بچانے کے لیے تحقیقات کرکے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور فیڈریشن سے چمٹے بد دیانتوں سے فوری طور پرچھٹکارہ پایا جائے۔