کراچی: نئی وفاقی حکومت نے پاکستان کے85 فیصد کارگوکنسائمنٹس کو لانے لیجانے کے لیے نجی شعبے کو شپنگ انڈسٹری میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں کارگو لانے اور مقامی کارگو لے جانے والی غیرملکی جہاز راں کمپنیاں سالانہ 2.5 ارب ڈالر صرف فریٹ چارجز کی مد میں وصول کرکے بیرون ملک بھیجتی ہیں اور ان غیرملکی جہازراں کمپنیوں کے پاس پاکستانی کارگوبزنس کا85 فیصد مارکیٹ شئیرہے جبکہ باقی ماندہ 15 فیصد مارکیٹ شئیرقومی ادارے پی این ایس سی کے پاس ہے اوراس قومی ادارے کے پاس کارگوبزنس ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے درآمد ہونے والے صرف خام تیل کے درآمدی کنسائمنٹس کی ترسیل تک محدود ہے۔

قیمتی زرمبادلہ کی بجت اور درآمدی وبرآمدکنسائمنٹس کی ترسیل میں خودکفالت حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم عمران خان کی نئی حکومتی ٹیم نے روز اول سے نئی شپنگ پالیسی پر کام کا آغاز کردیا ہے۔

 

اس ضمن میں پاکستان شپنگ ایسوسی ایشن کے صدر عاصم صدیقی نے ایکسپریس کے استفسار پر بتایا کہ وفاقی حکومت اور وزارت جہازراں وبندرگاہ کی جانب سے شپنگ ایسوسی ایشن ودیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اس موضوع پر متعدد اجلاس منعقد ہوچکے ہیں اور توقع ہے کہ مقامی شپنگ انڈسٹری پر مفصل اور جامع جائزہ رپورٹ آئندہ3 ماہ میں مرتب کرلی جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ نئی پالیسی میں نجی شعبے کو جہاز رانی کی انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لیے ترغیبات ومراعات تجویز کی جائیں گی اور اگرحکومت کی جانب سے مطلوبہ نوعیت کی ترغیبات دینے کا اعلان کردیا جائے تو پاکستان کا نجی شعبہ ہنگامی بنیادوں پر بیرونی ممالک سے مال برداربحری جہاز چارٹرڈ کرکے ملک سے جانے والے 2.5 ڈالر کے قیمتی زرمبادلہ میں50 فیصد تک کی کمی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سال1970 میں پی این ایس سی کے پاس 200 بحری جہاز اور ٹینکرز تھے جو اب صرف11 تک محدود ہوگئے ہیں جبکہ پاکستان کے نجی شعبے کے پاس فی الوقت ایک بھی بحری جہاز نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان سے برآمداور درآمد ہونے والے کنسائمنٹس کی ترسیل کا انحصار صرف غیرملکی جہاز راں کمپنیوں پر منحصر ہے۔

عاصم صدیقی نے بتایا کہ شپنگ انڈسٹری میں پائیدار سرمایہ کاری کرکے نہ  صرف حکومتی ریونیو میں نمایاں اضافہ کیا جاسکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے وسیع مواقع بھی کیے جاسکتے ہیں اور میری ٹائم انسٹیٹیوٹ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھال کرشعبہ جہاز رانی میں خدمات انجام دینے والی افرادی قوت کی منظم تربیت کی جاسکتی ہے، انھوں نے کہا کہ شپنگ انڈسٹری کی پالیسی طویل المیعاد ہونی چاہیے جس میں جرمن اور یورپین شپ یارڈمیں دی جانے والی فنانسنگ سمیت دیگر سہولتوں کو مدنظر رکھنا چاہیے، اگر نئی حکومت اپنی موثر پالیسی کی بدولت اس شعبے میں سرمایہ کاروں راغب کرنے میں کامیاب ہوگئی تو پاکستان میں یہ شعبہ اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کا حامل سرفہرست شعبہ بن کر ابھرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ 30 سے 50 ہزار ڈالر یومیہ پر بحری جہاز چارٹرڈ ہوتاہے جبکہ 10 سے15 ملین ڈالر میں بحری جہازخریدا جاتا ہے۔ عاصم صدیقی نے بتایا کہ گوادر بندرگاہ کا ماسٹر پلان مرتب کرلیا جائے اور پالیسی کے تحت 100 سے120 برتھیں بنالی جائیں تو گوادر بندرگاہ پر نجی شعبہ بھی وسیع پیمانے پر کنٹینرٹرمینلز کے قیام میں سرمایہ کاری کرے گا۔