نئی دہلی: بھارتی آرمی چیف نے گیدڑ بھبکی دی ہے کہ پاکستان کو جواب دینے کا وقت آگیا ہے۔

نریندر مودی حکومت کی جانب سے پاک بھارت وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ کردی گئی ہے، جس کے بعد بھارتی آرمی چیف نے بھی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی شروع کر دی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ پاکستان کو درد محسوس کرانا چاہتے ہیں اور اسے جواب دینے کا وقت آگیا ہے، اب پاکستان کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے گا اور پاک فوج کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

 

بھارتی آرمی چیف نے مقبوضہ کشمیر میں اپنی فوج کے بہیمانہ مظالم کو تسلیم کرنے کے بجائے الٹا پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی بارڈر فورس کے اہلکاروں کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے اور کشمیر میں در اندازوں کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

بھارتی آرمی چیف نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتے اس لیے اپنی حکومت کو پاکستان سے مذاکرات کرنے سے منع کیا، سرحد پر بھارتی فوجیوں کی ہلاکت سے انتہا پسندوں کے عزائم واضح ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے خطے میں قیام امن عمل کے لیے اپنے بھارتی ہم منصب کو خط لکھا تھا جس کے جواب میں بھارتی حکومت نے بھی وزرائے خارجہ کی ملاقات کی تصدیق کی تھی تاہم بعد میں ملاقات کو بغیر کسی وجہ کے منسوخ کر دیا گیا۔