اسلام آباد: ایف بی آر کو پائلٹ پروجیکٹ کی کامیابی کے بعد او ای سی ڈی ممبر ممالک سے پاکستانیوں کے بیرون ممالک کھربوں روپے کے کالے دھن و اثاثہ جات کے بارے میں تجرباتی بنیادوں پر معلومات موصول ہونا شروع ہوگئیں تاہم یہ معلومات متعلقہ فیلڈ دفاتر تک منتقل کرنے کیلیے نصب کردہ سافٹ ویئر میں تکنیکی خرابی کا انکشاف ہواہے۔

’ایکسپریس‘ نے جب ایف بی آر کے سینئرافسر سے رابطہ کیا تو انھوں نے نام ظاہر نہ کرنیکی شرط پر بتایا کہ او ای سی ڈی معاہدے کے تحت پاکستان کااوای سی ڈی کے ممبر ممالک کیساتھ معلومات کے تبادلہ کا پروگرام آج اتوار سے باقاعدہ آپریشنل ہوجائیگا جبکہ تجرباتی بنیادوں پر پہلے ہی آپریشنل ہوچکا ہے اور پائلٹ پراجیکٹ کے طورپربرطانیہ سے کچھ پاکستانیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوچکی ہیں۔

افسر نے بتایا او ای سی ڈی معاہدہ کے تحت پاکستان ملنے والی معلومات خفیہ رکھنے کا پابند ہے جس کیلیے سافٹ ویئر نصب کیے گئے جن کے ذریعے آٹومیٹڈنظام کے تحت معلومات ایف بی آر کے علاقائی ٹیکس دفاتر اور متعلقہ ایل ٹی یوز سمیت دیگر فیلڈ دفاتر تک منتقل ہوجاتی ہیں جہاں صرف مجاز اتھارٹی کو ان معلومات تک رسائی ہے اور باقاعدہ پروسیجر کے تحت ان معلومات کو استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

 

ذرائع کا کہنا ہے معلومات کے تبادلہ میں کسی قسم کی غلطی سے بچنے کیلیے متعلقہ افسران کو غیر ملکی کمپنی کے ماہرین سے تربیت دلوائی جاچکی ہے۔