کراچی: سندھ حکومت نے پورے صوبے میں ایک کلاس روم میں قائم ’’ناقابل فعال‘‘ (Non viable ) 15 ہزار سرکاری اسکول بند کرنے کافیصلہ کیاہے۔

سندھ میں مجموعی انرولمنٹ کا 80 فیصد بوجھ اٹھانے والے 5 ہزار سرکاری اسکولوں کوآئندہ 2 برسوں میں تمام بنیادی سہولتیں فراہم کرکے انھیں ماڈل اسکول کے طورپر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

ابتدائی مرحلے میں رواں مالی سال کے اختتام تک 2632 سرکاری اسکولوں کوتمام بنیادی سہولتیں فراہم کردی جائیں گی۔ مزید براں 6ہزاراساتذہ کی تقرری کے لیے تحریری ٹیسٹ آئی بی اے سکھرکے تحت آئندہ چندروزمیں لینے کا باقاعدہ اعلان کردیاجائے گاجبکہ پہلی سے آٹھویں جماعت کی تدریس اورامتحانی نظام کے معیارات کوجانچنے کے لیے ’’ڈسٹرکٹ اسسمنٹ بورڈ‘‘قائم کیاجارہاہے ‘‘۔ اس بات کا انکشاف صوبائی وزیرتعلیم سیدسردارعلی شاہ نے پیرکواپنے دفترمیں اخبارنویسوں سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا۔