دبئی: حارث سہیل نے سنچری بناکر والدہ کی خواہش پوری کردی۔

دبئی ٹیسٹ کے دوسرے روز کا کھیل ختم ہونے کے بعد پریس کانفرنس اوررمیز راجہ سے گفتگو میں حارث سہیل نے بتایا کہ ایک روز قبل ہی والدہ سے فون پر بات ہوئی تھی،انھوں نے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ میں سنچری بناؤں اور میدان میں سجدہ کروں،ماضی میں کئی بار 30کے قریب رنز بناکر آؤٹ ہوتا رہا ہوں،اپنی غلطیوں پر بہت غور کرتا رہا،اس بار ٹھان لی تھی کہ صبر وتحمل سے کھیلتے ہوئے لمبی اننگز کھیلوں گا۔

حارث سہیل نے بتایا کہ ابتدا میں اظہر علی سے بات ہوئی تو یہی سوچا کہ ابھی گیند کافی نرم پڑ چکی،رنز بنانے میں دشواری ہوگی، ہمیں انتظار کرنا ہے،نئے سیشن میں نئی گیند پر اسٹروکس لگیں گے،اسد شفیق کے ساتھ شراکت آگے بڑھی تو رنزبنانے کا موقع بھی ملنا شروع ہوگیا۔

انھوں نے کہا کہ ٹیسٹ کیریئر میں پہلی سنچری بنانے کی خوشی لفظوں میں بیان نہیں کرسکتا،میں اپنی کارکردگی میں تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کروں گا۔

حارث سہیل نے کہا کہ پچ کافی سلو ہے، رنز آسانی سے نہیں بن رہے تھے،482ایک اچھا ٹوٹل ہے۔ تیسرے روز بولرز ابتدا میں جلد وکٹیں حاصل کریں تو کینگروز کو دباؤ میں لاسکتے ہیں،بولنگ کا موقع ملا تو اپنی افادیت ثابت کرنے کی کوشش کروں گا۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے والد چاہتے تھے کہ تعلیم حاصل کرکے کاروبار میں ان کا ہاتھ بٹاؤں، کرکٹ کھیلنے پر پٹائی بھی ہوتی،پھر جب کھیل میں نام کمانا شروع کیا تو والد نے بھی ساتھ دینا شروع کردیا۔