اسلام آباد:  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان کے ہوتے ہوئے بیوروکریسی ملک سے کھلواڑ نہیں کرسکتی جبکہ اداروں اور اسمبلیوں سب کو خوش کرکے چلنے کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  قومی اجلاس کا بلانے پر اعتراض کوئی نہیں، اپوزیشن 90 اراکین کے دستخط کے ساتھ ریکوزیشن جمع کرائے تو اجلاس بلالیں گے، جنھوں نے ملک لوٹا ان سے پیسا نکلوا رہے ہیں اس پر اب شور اٹھ رہا ہے، تاہم جتنا مرضی رو لیں احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت احتساب کے لیے عملی اقدامات کررہی ہے، عمران خان نے اپنے خاندان کے لیے پیسے نہیں بنانے، نہ ان کی کابینہ میں کسی کو پیسے بنانے کی جرات ہوگی، عمران خان کے ہوتے ہوئے بیوروکریسی کی جرات نہیں ہوگی کہ اس ملک کے ساتھ وہ کھلواڑ جاری رکھے جو پہلے جاری رہا، یہ مشکل مرحلہ ہے، اصلاحات کے وقت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،

 

وزیر اطلاعات نے کہا کہ پی ٹی وی ساڑھے 7 ارب روپے، ریڈیو پاکستان 4 ارب روپے اور محکمہ ڈاک 7 ارب کی گرانٹ کے باوجود خسارے میں جارہا ہے، ایسے نہیں چلے گا، ہم ملک کو روٹین میں نہیں چلاسکتے، اداروں اور اسمبلیوں میں سب کو خوش کرکے چلنے کا سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ریاستی اداروں کو اب اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا، ملکی خزانے کے ذخائر صرف ڈیڑھ ماہ کیلئے رہ گئے ہیں، ہم نے رواں سال قرضوں کی مد میں 8 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، جبکہ اس سال ملک کو چلانے کے لیے 28 ارب ڈالر چاہئیں، گزشتہ حکومت میں اداروں کو تباہ کیا گیا، نااہل لوگوں کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات کیا گیا، پھر ان اداروں کے بل پر حکومت چلائی گئی، سیاسی بھرتیوں نے اداروں کو تباہ کردیا،

فواد چوہدری نے مزید کہا کہ جب کوئی سمندر پار پاکستانی وطن واپس آتا ہے تو ائرپورٹ پر ہی ہر محکمہ اس کے پیچھے لگ جاتا ہے، کوئی شخص یہاں کاروبار کرنے کا کیسے سوچے گا، یہ اداروں کی گراوٹ کا اظہار ہے، ہم نے ملک کو مالیاتی طور پر اپنےقدموں پر کھڑا کرنا ہے، پچھلی حکومتوں نے ملک کو قرضوں میں ڈبودیا