پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب، فرانس اور جرمن صدور کا خراج عقیدتوٹ ولر / فرانس: پہلی جنگ عظیم کی صد سالہ تقریب منائی گئی جس میں فرانس اور جرمنی کے صدور نے اس تقریب میں حصہ لیا۔ فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند اور ان کے ہم منصب جرمنی کے جواشم گوک نے پہلی جنگ عظیم میں مارے جانے والے فوجیوں کو تاریخی ویئلی آرمنڈ کے قبرستان آلساسے میں خراج عقیدت پیش کیا۔
دونوں صدور نے وٹ ولر شہر کے ویئلی آرمنڈ قبرستان میں ایک یادگار اور نمائش سینٹر کا سنگ بنیاد بھی رکھا اور عوام کے لیے اس کے دروازے 2017ء میں کھولے جائیں گے۔ یاد رہے کہ 100 سال قبل گزشتہ روز یعنی 3 اگست 1914ء کو جرمنی نے فرانس کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ ویئلی آرمنڈ پہاڑ کے گرد تقریباً 30 ہزار افراد مارے گئے تھے جسے جرمنی میں ’’ہارٹمانسویلرکوف‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس قبرستان میں 12,000 ایسے فوجیوں کی قبریں ہیں جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ اسی طرح بلجیم میں آج برطانیہ کے جرمنی کے خلاف جنگ کے اعلان کے حوالے سے ایک علیحدہ تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔
برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون بھی اس تقریب میں شرکت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ بلجیم کے خلاف جنگ کے اعلان کے بعد سے یورپ جنگِ عظیم اول کے حوالے سے منقسم ہو گیا تھا جس کے بعد انگلینڈ نے جرمنی کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا اور پھر اس جنگ عظیم نے یورپ کا نقشہ بدل ڈالا تھا۔ پہلی جنگِ عظیم کے اعلانیہ آغاز سے بالکل پہلے والے ہفتے میں کیا ہوا تھا؟ اب ایک نظر ان شب و روز پر ڈالتے ہیں جنھوں نے دنیا کو پہلی جنگِ عظیم کی جانب دھکیل دیا۔