لاہور:
چمڑے کی فیکٹری میں کام کرنے والے محمد عباس نے مسلسل محنت سے عالمی کرکٹ میں قدم جمالیے۔

سمبڑیال تحصیل کے گاؤں جیٹھی سے تعلق رکھنے والے پیسر محمد عباس نے ٹیپ بال سے آغاز کیا۔ والدین کا ہاتھ بٹانے کیلیے روزگار کی تلاش میں 8ماہ ویلڈنگ کا کام کیا، چمڑے کی ایک فیکٹری میں ملازمت بھی کی، 2سال تک کچہری میں پراپرٹی کی رجسٹریوں کا کام کیا، ساتھ کرکٹ بھی جاری رکھی۔

اسی دوران ڈسٹرکٹ انڈر 19 کھیلنے کا موقع ملا، فرسٹ کلاس کرکٹ میں دھوم مچانے کے بعد بالآخر قومی ٹیم میں شامل ہوئے اور اب پاکستانی ٹیسٹ فتوحات کے اہم کردار بن چکے ہیں۔