کراچی:
پی سی بی نے احمد شہزاد کی معافی مسترد کر دی جب کہ پابندی کے دور میں کلب میچز کھیلنے پر وضاحت کیلیے طلب کیا جائے گا۔

احمد شہزاد نے ڈوپنگ کیس میں پابندی کے دور میں کئی کلب میچز کھیلے،پھر خود ہی سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کو اس سے آگاہ کیا، بورڈ نے انھیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 25 اکتوبر تک جواب طلب کیا تھا۔

ذرائع نے بتایا کہ احمد شہزاد نے تحریری طور پر پی سی بی نے معذرت کر لی، انھوں نے موقف اختیار کیا کہ نادانستگی میں کلب میچز میں شرکت کی۔

 

دوسری جانب پی سی بی نے احمد شہزاد کی معافی مسترد کردی، حکام کا کہنا ہے کہ اوپنر نے  تمام  باتیں اچھی طرح پڑھنے کے بعد ہی سزا کی دستاویز کو قبول کیا تھا، وہ بخوبی جانتے تھے کہ کسی طرز کی کرکٹ نہیں کھیل سکتے، پھر بھی ایسا کر کے انھوں نے ایک اور مصیبت کو دعوت دے دی، سوشل میڈیا پر ان کی پوسٹ دیکھ کر عالمی اینٹی ڈوپنگ ایجنسی واڈا بھی پی سی بی کی سزا پر اعتراض اٹھا سکتی ہے۔

حکام نے احمد شہزاد کو جلد طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد ان کیخلاف اگلی کارروائی کا فیصلہ ہوگا، سزا میں اضافے کی تجویز بھی زیرغور ہے۔

واضح رہے کہ احمد شہزاد کا ڈوپ ٹیسٹ3مئی کو فیصل آباد میں پاکستان ون ڈے کپ کے دوران لیا گیا، جون کے وسط میں مثبت نتیجہ سامنے آیا،10جولائی کو چارج شیٹ جاری ہوئی اور وہ عبوری طور پر معطل ہوئے، ممنوعہ ادویات کا استعمال ثابت ہونے پر انھیں 4ماہ کیلیے معطل کردیا گیا تھا، اوپنر پر پابندی کی مدت 11نومبر کو ختم ہونا ہے، مگر اس سے قبل ہی وہ کلب میچز میں حصہ لے کر نئی مشکل میں پڑ گئے ہیں۔