کراچی:
ایف آئی اے نے اومنی گروپ کی9شوگر ملوں کی جانب سے نیشنل بینک اور سندھ بینک سمیت نجی بینکوں سے73 ارب روپے سے زائد کے قرضوں میں پائی جانے والی سنگین بے قاعدگیوں کی باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کردیا۔

اس سلسلے میں کمرشل بینکنگ سرکل کراچی میں انکوائریز رجسٹرڈ کرلی گئی ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری کے قریبی دوست اور اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزام میں تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔ منی لانڈرنگ کے الزام میں سابق صدرزرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی جانے والی جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات کو حتمی شکل دینی شروع کردی ہے۔ دوران تحقیقات سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں انکوائریز رجسٹرڈ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔

جے آئی ٹی کو معلوم ہوا تھا کہ انورمجید کے اومنی گروپ کی ملکیت میں9 شوگرملیں ہیں جو سندھ میں ہیں۔ اومنی گروپ نے مارچ اور اپریل2018 میں45 لاکھ چینی کی بوریاں گروی رکھ کر سرکاری اور نجی بینکوں سے مجموعی طور پر13ارب روپے قرضہ حاصل کیا تھا، زیادہ قرضہ سرکاری بینکوں سے حاصل کیا گیا۔ قواعد کے مطابق اومنی گروپ گروی رکھی گئی 45 لاکھ بوریوں کی فروخت بینکوں کی پیشگی اجازت کے بغیر نہیں کرسکتا اور بوریوں کی مقررہ قیمت پر فروخت کے ایک ہفتے کے اندر ان پر حاصل کیا گیا قرضہ بینک کوواپس کرنے کا پابند ہے۔ جے آئی ٹی کی تحقیقات کے دوران یہ سامنے آیا تھا کہ اومنی گروپ نے گروی رکھی گئی چینی کی بوریاں اپنی شوگر ملوں سے نامعلوم مقام پر منتقل کردی ہیں یا انھیں بینک کے علم میں لائے بغیر فروخت کردیا گیا ہے۔

 

منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران یہ حقائق سپریم کورٹ کے سامنے لائے گئے تھے اور اسی روز ایف آئی اے نے سپریم کورٹ کراچی رجسٹری کے باہر سے انورمجید کے ایک اور صاحبزادے نمرمجید کو حراست میں لے لیا تھا۔ یاد رہے کہ انورمجید اور ان کے بڑے صاحبزادے عبدالغنی مجید پہلے ہی منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار کیے جاچکے ہیں۔ ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نمرمجید کو گمشدہ بوریوں کی مد میں حاصل کیے گئے قرضے کی ادائیگی کی یقین دہانی پر رہا کردیا گیا تھا۔ ایف آئی اے نے اس سلسلے میں کمرشل بینکنگ سرکل کراچی میں9 نئی انکوائریز رجسٹر کرکے تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کردیا تھا۔ جمعرات کو ایف آئی اے کی ٹیموں نے سندھ بھر میں موجود اومنی گروپ کی ملکیت شوگر ملوں پر چھاپے مارے تو یہ انکشاف ہوا کہ شوگرملوں میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ لاکھ چینی کی بوریاں موجود ہیں۔

ایف آئی اے نے متعلقہ بینکوں سے تحقیقات شروع کی تو مزید انکشاف ہوا کہ اومنی گروپ سرکاری اور نجی بینکوں سے73 ارب روپے سے زائد کے قلیل المدت اور طویل المدت قرضے حاصل کرچکا ہے اور زیادہ تر قرضوں میں سنگین بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ اب تک حاصل ہونے والے ریکارڈ اور تحقیقات کے مطابق بڑے پیمانے پر قرضوں کے حصول میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں میں بینک کی اعلیٰ انتظامیہ اور متعلقہ بینکرز بھی ملوث ہیں۔ ذرائع نے بتایاکہ اومنی گروپ کے خلاف ان الزامات کے تحت مزید مقدمات جلد درج کیے جانے کا امکان ہے۔ ایف آئی اے حکام اپنی رپورٹ آج (پیر کو )سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے ۔