راولپنڈی:
جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایس پی انوسٹی گیشن سردار غیاث گل کی سربراہی میں 7 رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

اس ٹیم میں ایس پی پوٹھوہار، ایس ڈی پی او سول لائنز، ایس ایچ او ایئرپورٹ عامر خان، ہومی سائیڈ یونٹ کے انچارج انسپکٹر محمد جمیل اور دو سب انسپکٹرز شامل ہیں۔ ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ سی پی او راولپنڈی عباس احسن نے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے مولانا کے بیٹوں کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن انھوں نے سختی سے انکار کیا اور پوسٹ مارٹم کرانے کی صورت میں ملک بھر میں احتجاج کا عندیہ دیا جس کے بعد انتظامیہ نے ان سے تحریر حاصل کرنے کے بعد میت ان کے حوالے کی۔

ذرائع کے مطابق پوسٹمارٹم نہ ہونے سے پولیس کو تفتیش کرنے میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ تفتیش سے جڑے سینئر پولیس افسر نے ایکسپریس کو بتایا کہ مولانا کے قتل کے حوالے سے صرف اسپتال کے ڈاکٹر اور مولانا کے ساتھی احمد شاہ کا ابتدائی بیان ہی ریکارڈ کیا جاسکا ہے۔ ڈاکٹر کی رائے ہے کہ جب مولانا سمیع الحق کو اسپتال لایا گیا تو ان کے جسم سے خون بہنا بند ہوچکا تھا انھیں جاں بحق ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ گزر چکا تھا۔ پولیس افسر کے مطابق مولانا کیساتھ صرف احمد شاہ ہی تھا، اس کے علاوہ ان کے اہلخانہ سمیت کوئی دوسرا شخص نہیں تھا۔

 

احمد شاہ کا ابتدائی بیان ہے کہ وہ مولانا سمیع الحق کو بیڈروم میں آرام کے لیے چھوڑ کر گھر کو مکمل لاک کرنے کے بعد پانی وغیرہ لینے گیا اور واپس پہنچا تو گھرکھول کر کام میں مشغول ہوگیا، کافی دیر تک کسی قسم کی آواز وغیرہ نہیں آئی تو کمرے میں جاکر دیکھا تو مولانا خون میں لت پت پڑے تھے۔ پولیس ذرائع نے بتایا قاتل جن کی تعداد معلوم نہیں یا تو گھر میں پلاننگ کے تحت پہلے سے چھپے بیٹھے تھے یا پھر گھر کی چابیاں وغیرہ پاس رکھتے تھے تاہم واردات کے بعد قاتلوں نے فرار کے لیے گھر کے کچن کا راستہ استعمال کیا۔

پولیس ذرائع کے مطابق مولانا کا ساتھی احمد شاہ واقعے کے بعد مولانا کی میت کیساتھ اکوڑہ خٹک چلاگیا جسے شامل تفتیش کرنے کے لیے بھی مشکلات کا سامنا ہے، راولپنڈی پولیس کے انسپکٹر کی سربراہی میں ایک ٹیم اکوڑہ خٹک بھی گئی جس کو مولانا کے لواحقین کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ چند دن کے بعد پولیس کو جو تعاون اور جو لوگ تفتیش میں مدد کے لیے درکار ہوں گے وہ فراہم کثے جائیں گے۔

ادھر پولیس کو مولانا اور ان کے ساتھی کے موبائل فون سے بھی ابتدائی طور پر کوئی مدد نہیں مل سکی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ جس دن یہ واقعہ پیش آیا اس دن فیض آباد دھرنے کے باعث موبائل فون سروس معطل تھی اور واردات سے قبل نہ تو موبائل فون سے کوئی کال کی گئی نہ آئی کال وصول ہوئی تاہم واردات سے قبل چند دنوں کے دوران مولانا اور ان کے ساتھیوں سے کون کون رابطے میں رہا اس کے لیے موبائل فونز کا فازنسک تجزیہ جاری ہے۔

ذرائع نے بتایا مولانا سفید ڈائیل کا سادہ موبائل فون کال سننے اور کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ پولیس کو واردات میں استعمال ہونے والے آلہ قتل کی بھی تلاش ہے جس کے لیے پولیس نے جائے وقوع اور گردنواح کے علاقوں کی سرچنگ و کومبنگ آپریشن کیے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون وپارلیمانی امور محمد بشارت راجا کی صدارت میں تحقیقات میں پیشرفت کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس ہوا۔ راولپنڈی پولیس حکام نے تفتیش کے متعلق بریفنگ دی۔ این این آئی کے مطابق پولیس نے مولانا سمیع الحق کے قتل کے شبہ میں 6 افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن کے فنگر پرنٹس لے لیے گئے ہیں۔