کراچی:
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری وہی شخص ہیں جو کبھی پرویز مشرف تو کبھی آصف زرداری کی تعریف کیا کرتے تھے۔

کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا ساتواں این ایف سی ایوارڈ اٹھارویں ترمیم کی روشنی میں عمل میں آیا، یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم موڑ تھا، اٹھارویں ترمیم کے باعث سندھ میں ایس آر بی وجود میں آیا، جہاں ہمیں وفاق میں سروس آن سیلز پر 7  ارب ملتے تھے وہاں سندھ حکومت ایس آر بی کے ذریعے 100 ارب جمع کرتی ہے۔ سیلز ٹیکس آن سروس سے ہمیں وفاق سے آخری 14 ارب روپے ملے تھے تاہم سندھ حکومت نے وفاق کو تجویز دی ہے کہ سیلز ٹیکس آن گڈز بھی صوبوں کو منتقل کرے، جو صوبہ ہدف سے زیادہ وصولی کرے اسے انعام دیا جائے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : فسادی سیاست دانوں کو خلا میں بھیج دینا چاہیے

 

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں سندھ حکومت کی محنت سے امن و امان بہتر ہوا، ہم پولیس کے پہرے میں ہائی ویز پر سفر کرتے تھے، کراچی کی صورتحال زیادہ خراب تھی، 2008 میں ہم اتحادی حکومت بنا کر اقتدار میں آئے اور امن و امان قائم رکھنے کے لیے رینجرز کو خصوصی اختیارات دیے۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بیان پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ وہی شخص ہیں جو کبھی پرویز مشرف تو کبھی آصف زرداری کی تعریف کیا کرتے تھے، سندھ میں بے نامی اکاؤنٹس کی بات کرتے ہیں، خیبر پختونخوا میں بھی بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں، خیبر پختون خوا میں 10 ارب سے زائد کے بے نامی اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : مجھے پھنسانے کی کوشش کی جارہی ہے

وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ فواد چوہدری کے الزامات کا وہی بہتر جواب دے سکتے ہیں، وہ جب نجی محفل میں ملتے ہیں تو ایسی باتیں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان کے لیے چین گئے تھے، امید تھی کہ چین میں سندھ کے لیے کوئی بات ہوگی جب کہ چین سے وزیراعظم کو کچھ نہیں ملا، وزیراعظم کی چین اور کنٹینر والی تقاریر ایک جیسی ہیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا نیب کی ویب سائٹ پر دیکھ لیں پتہ چل جائےگا سب سے زیادہ کرپشن کہاں ہے، این آر او کی بات کون کررہا ہے نہیں معلوم، فواد چوہدری اوران کی باتیں وہ جانیں۔