لاہور  :
تحریک لبیک کے وفد نے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے مذاکرات کئے ہیں اور معاہدے پرعمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق ملک بھر میں جہاں ایک طرف احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے شرپسندوں کو گرفتار کیا جارہا ہے وہیں تحریک لبیک یارسول اللہ کے وفد نے ایک بار پھر پنجاب حکومت سے مذاکرات کئے ہیں اورمعاہدے پرعمل درآمدکا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مذاکرات گزشتہ رات گئے وزیراعلی سیکرٹریٹ میں ہوئے، صوبائی وزیر قانون نے تحریک لبیک پاکستان کے گرفتار کارکنوں کی 24 گھنٹے میں رہائی کی یقین دہانی کروادی۔

تحریک لبیک کے ترجمان پیر اعجاز اشرفی کے مطابق ملک بھرمیں شرپسندوں کی آڑ میں تحریک لبیک کے کارکنوں کو گرفتارکیا جارہا ہے جب کہ معاہدے کے تین روز بعد بھی تحریک کے کارکنوں کے خلاف بنائے گئے مقدمات ختم کئے گئے ہیں اور نہ ہی گرفتار کارکنوں کو رہا کیا گیا ہے، جس پر ایک اعلی سطح وفد نے گزشتہ رات صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت اور ایڈیشنل آئی جی سمیت دیگر حکام سے وزیراعلی سیکرٹریٹ میں ملاقات کی اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔

 

ملاقات میں صوبائی وزیر پر واضح کیا گیا کہ تحفظ ناموس رسالت کی تحریک کو کچھ ناعاقبت اندیش وزراء جلاؤ گھیراؤ کی تحریک بنانے کا ڈرامہ رچا رہے ہیں، تحریک لبیک کے خلاف منفی حکومتی پروپیگنڈا بند کیا جائے۔

پیراعجازاشرفی کے مطابق صوبائی وزیرراجہ بشارت نے وفد کو معاہدے پر ہر صورت عملدرآمد کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے، وزیرقانون نے وعدہ کیا کہ آئندہ 24 گھنٹے میں تحریک لبیک کے گرفتار کارکنوں کو رہا کردیا جائے گا اور ان کے خلاف بنائے گئے مقدمات بھی ختم ہوجائیں گے۔

دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کی قیادت سے ملاقات کے دوران صوبائی وزیر قانون نے یہ بھی واضح کیا کہ شرپسندوں کے خلاف کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔