کراچی:
آئی جی جیل خانہ جات نے عدالت میں جواب جمع کروایا ہے کہ عزیر بلوچ کو11 اپریل2017 کو پاک فوج کے حوالے کیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ نے گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی والدہ کی بیٹے کی پیشی کے لیے درخواست پر اے آئی جی لیگل اور ڈپٹی آٹارنی جنرل کو جواب کیلیے مہلت دیدی۔

دو رکنی بینچ کے روبرو گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کی والدہ کی بیٹے کی پیشی کے لیے دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ پولیس نے لیاری کے گینگسٹر عذیر بلوچ کی فوج کو حوالگی کی تصدیق کردی۔ آئی جی جیل خانہ جات نے جواب جمع کرادیاکہ عزیر بلوچ کو11 اپریل2017 کو پاک فوج کے حوالے کیا گیا۔

 

جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں ملزم عزیر بلوچ کو میجر محمد کے حوالے کیا تھا۔ اے آئی جی لیگل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت طلب کرلی۔عدالت نے  سماعت 23 نومبر تک ملتوی کردی۔

گینگ وار کے سرغنہ عذیر بلوچ کی والدہ رضیہ بیگم نے دائر درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ جنوری 2016 میں عزیر بلوچ کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔ ملزم کو 12 اپریل 2017 کے بعد عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ خدشہ ہے عزیر بلوچ کو لاپتہ کردیا گیا ہے۔ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔